دیباچہ تفسیر القرآن — Page 52
لئے بھی تیار نہیں ہوسکتا۔کیا عیسائی اور یہودی دنیا خدا کے نبیوں کی نسبت ایسی باتیں سن سکتی ہے؟ اگر سن سکتی ہے تو یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ ایک ایسی پاک اور منزہ کتاب خد اتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی جو اِس قسم کے ذہنوں کا علاج کرتی۔۳۔تورات میں لکھا ہے اگر کئی بھائی ایک جا رہتے ہوں اور ایک ان میں سے بے اولاد مر جائے، تو اُس مرحوم کی جورو کا بیاہ کسی اجنبی سے نہ کیا جائے بلکہ اس کے شوہر کا بھائی اس سے خلوت کرے اور اُسے اپنی جورو کرلے اور بھاوج کا حق اُسے ادا کرے اور یوں ہو گا کہ اُس کا پلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے مرحوم بھائی کے نام پر قائم ہو گا تاکہ اس کا نام اسرائیل میں سے مٹ نہ جائے۔۶۶؎ اگر کسی اور شخص کی اولاد کے ذریعہ سے کسی شخص کا نام قائم رہ سکتا ہے تو بھائیوں کی اولاد کے ہونے کی صورت میں کیا ضرورت ہے کہ اس کے بھائیوں کے نطفہ سے اس کی بیوی کے ہاں بھی کوئی بیٹا پیدا ہو۔اگر بھائیوں کابیٹا اس کا بیٹا ہو سکتا ہے تو پھر اس کی بیوی سے بد کاری کروانے کا فائدہ ہی کیا ہے۔بائبل یہی کہہ دیتی کہ بھائیوں کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا مرنے والے کی طرف منسوب کر دیا جائے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہودی علماء نے حضرت لوط پر ایک گندہ الزام لگایا تھا خدا نے ایسی تعلیم ان کے ہاتھوں سے تورات میں لکھوادی تاکہ لوط پر جھوٹا الزام لگانے والے یہودی سارے کے سارے خود اُس گند میں مبتلا ہو جائیں جو کام اُنہوں نے حضرت لوط کی طرف منسوب کیا تھا۔یقینا عہد نامہ قدیم کی یہ خرابیاں اِس بات کی بیّن دلیل تھیں کہ دنیا کو اِس قسم کی کامل کتاب کی ضرورت تھی جو عیبوں اور نقصوں سے پاک ہو اور وہ کتاب قرآن کریم ہے۔موجودہ اناجیل کی حالت میں اوپر بتا چکا ہوں کہ عہد نامہ قدیم ظاہری اور باطنی دونوں طور پر محرف و مبدل ہو چکا ہے اوراس کی تعلیم اور اس کی روشنی سے کسی انسان کا ہدایت پانا ناممکن ہے۔اب میں عہد نامہ جدید کو لیتا ہوں۔(۱) عہد نامہ جدید کا کوئی وجود نہیں ہیجو کتابیں عہد نامہ جدید کے نام سے ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں، وہ ہرگز نہ مسیح کے اقوال پر مشتمل ہیں اور نہ ان کے حواریوں کے اصل