دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 367

شرک سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ وفات کے وقت جبکہ آپ جان کندن کی تکلیف میں کبھی دائیں کروٹ لیٹتے اور کبھی بائیں کروٹ لیٹتے اور یہ فرماتے جاتے تھے خدا ان یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیاہے۔۴۲۸؎ یعنی وہ نبیوں کی قبروں پر سجدے کرتے ہیں اور اُن سے دعائیں کرتے ہیں۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم اگر میرے بعد ایسا ہی فعل کرے گی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ میری دعائوں کی مستحق ہو گی بلکہ میں اس سے کلی طورپر بیزار ہوں گا۔خد اتعالیٰ کے لئے آپ کی غیرت کا ذکر آپ کی زندگی کے تاریخی واقعات میں آچکا ہے۔مکہ کے لوگوں نے آپ کے سامنے ہر قسم کی رشوتیں پیش کیں تا آپ بتوں کی تردید کرنا چھوڑ دیں اور آپ کے چچا ابوطالب نے بھی آپ سے اس امر کی سفارش کی اور کہا کہ اگر تم نے یہ بات نہ مانی اور میں نے تمہارا ساتھ بھی نہ چھوڑا تو پھر میری قوم مجھے چھوڑ دے گی تو اس پر آپ نے فرمایا اے چچا! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی توحید کوپھیلانے سے نہیں رُک سکتا۔۴۲۹؎ اسی طرح اُحد کے موقع پر جب مسلمان زخمی اور پراگندہ حالت میں ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے تھے اور دشمن اپنے سارے سازوسامان کے ساتھ اس خوشی میں نعرے لگا رہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کی طاقت توڑ دی ہے۔اور ابوسفیان نے نعرہ لگایا اُعْلُ ھَُبَل۔اُعْلُ ھُبَل۔یعنی ہبل کی شان بلند ہو، ہبل کی شان بلند ہو۔تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جو دشمن کی نظروں سے چھپے کھڑے تھے اور اِس چھپنے میں ہی اُن کی خیر تھی حکم دیاکہ جواب دو اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلَُّّ۔اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۴۳۰؎ اللہ ہی سب سے بلند اور جلال والا ہے۔اللہ ہی غلبہ اور جلال رکھتاہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کے لئے جو غیرت تھی اُس کی ایک اور عظیم الشان مثال بھی آپ کی زندگی میں ملتی ہے۔اسلام سے پہلے عام طور پر مختلف مذاہب میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ انبیاء کی خوشی اور غم پر زمین اور آسمان میں تغیر ظاہر ہوتے ہیں اور اجرامِ فلکی ان کے قبضے میں ہوتے ہیں چنانچہ کسی نبی کے متعلق یہ آتا تھا کہ اُس نے سورج کو کہا ٹھہر جا اور وہ ٹھہر گیا۔کسی کے متعلق آتا تھاکہ اُس نے چاند کی گردش روک دی اور کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس