دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 366

دنیا میں خوشنودی اور توجہ دلانے کے لئے تالیاں پیٹی جاتی ہیں عربوں میں بھی یہی رواج تھا مگر آپ کو خدا تعالیٰ کی یاد اور اُس کا ذکر اتنا پسند تھاکہ اس غرض کے لئے بھی ذکر الٰہی ہی استعمال کر نے کا حکم دیا۔چنانچہ لکھاہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے کہ نماز کا وقت آگیا۔آپ نے فرمایا ابوبکر! نماز پڑھا دیں۔پھر کام سے فارغ ہوکر آپ بھی فورا ً مسجد کی طرف روانہ ہوگئے۔جب نمازپڑھنے والوں کو معلوم ہوا کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے ہیں تو انہوں نے بیتاب ہو کر تالیاں بجانی شروع کر دیں جس سے ایک طرف تو یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ان کے دل بے انتہاء خوش ہو گئے ہیں اور دوسری طرف ابوبکرؓ کو توجہ دلانا مطلوب تھا کہ اب آپ کی امامت ختم ہوئی ا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے امام کی جگہ چھوڑ دی۔نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوبکر! جب میںنے تم کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو تم میرے آنے پر پیچھے کیوں ہٹ گئے؟ ابوبکرؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اللہ کے رسول کی موجودگی میں ابوقحافہ کا بیٹا کیا حیثیت رکھتا تھا کہ نماز پڑھائے۔پھر آپ صحابہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔تالیاں پیٹنے سے تمہاری کیا غرض تھی۔خدا کے ذکر کے وقت تالیوں کا بجانا تو مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔جب نماز کے وقت کوئی ایسی بات ہو کہ اُس کی طرف توجہ دلانی ضروری ہو تو بجائے تالیاں بجانے کے خدا کا نام بلند آواز سے لیا کرو۔جب تم ایسا کرو گے تو دوسروں کو اس واقعہ کی طرف خود بخود توجہ ہو جائے گی۔۴۲۶؎ مگر اس کے ساتھ ہی آپ تکلف کی عبادت بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ آپ گھر میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسّی لٹکی ہوئی ہے۔آپ نے پوچھا یہ رسّی کیوں بندھی ہوئی ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت زینبؓ کی رسّی ہے جب وہ عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اِس رسّی کو پکڑ کر سہارا لے لیتی ہیں۔آپ نے فرمایا۔ایسانہیں کرنا چاہئے یہ رسّی کھول دو۔ہر شخص کو چاہئے کہ اتنی دیر عبادت کیا کرے جب تک اُس کے دل میں بشاشت رہے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے اس قسم کی تکلف والی عبادت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔۴۲۷؎