دیباچہ تفسیر القرآن — Page 368
نے پانی کے بہائو کو بند کر دیا۔مگر اسلام نے اس قسم کے خیالات کی غلطی ظاہر کی اور یہ بتایا کہ درحقیقت یہ استعارے ہیں جن سے لوگ بجائے فائدہ اُٹھانے کے اُلٹے غلطیوں اور وہموںمیں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن باوجود ان تشریحات کے کچھ لوگوں کے دلوں میں اِس قسم کے خیالات کا اثر باقی رہ گیا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے اکلوتے صاحبزادے ابراہیم اڑھائی سال کی عمر میں فوت ہوئے تو اتفاقاً اُس دن سورج کو بھی گرہن لگ گیا اُس وقت چند ایسے ہی لوگوں نے مدینہ میں یہ مشہور کر دیا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی وفات پر سورج تاریک ہو گیا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ خوش نہ ہوئے آپ خاموش بھی نہ رہے بلکہ بڑی سختی سے آپ نے اِس کی تردید کی اور فرمایا۔چاند اور سورج تو خدا تعالیٰ کے مقرر کر دہ قانون کو ظاہر کرنے والی ہستیاں ہیںان کاکسی بڑے یا چھوٹے انسان کی موت یا زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔۴۳۱؎ جب کوئی شخص عرب کے محاورہ کے مطابق یہ کہہ دیتا کہ فلاں ستارہ کے فلاں بُرج میں ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور آپ فرماتے اے لوگو! خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔بارشیں وغیرہ سب خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق ہوتی ہیں کسی دیوی دیوتا کی یاکسی اور روحانی طاقت کی مہربانی اور بخشش کے ساتھ نازل نہیں ہوا کرتیں۔۴۳۲؎ اللہ تعالیٰ پر توکل اللہ تعالیٰپر توکل کا یہ حال تھا کہ جب ایک شخص نے اکیلاپا کر آپ پر تلوار اُٹھائی اور آپ سے پوچھا اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتاہے؟ اُس وقت باوجود اس کیکہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا ’’ اللہ‘‘ یہ لفظ اس یقین اور وثوق سے آپ کے منہ سے نکلا کہ اُس کافر کا دل بھی آپ کے ایمان کی بلندی اور آپ کے یقین کے کامل ہونے کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکا اورا ُس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور وہ جو آپ کو قتل کرنے کے لئے آیا تھا آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا ہو گیا۔۴۳۳؎ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں انکساری کی یہ حد تھی کہ جب آپ سے لوگوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!