دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 365

نہ دیا گیا۔اہل مکہ کے ظلموں کی شدت کو دیکھ کر آپ نے جب صحابہؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی اور انہوں نے آپ سے خواہش ظاہر کی کہ آپ بھی ان کے ساتھ چلیں، تو آپ نے فرمایا مجھے ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اِذن نہیں ملا۔ظلم اور تکلیف کے وقت جب لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے اِردگرد اکٹھا کر لیتے ہیں آپ نے اپنی جماعت کو حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جانے کی ہدایت کی اور خود اکیلے مکہ میں رہ گئے، اس لئے کہ آپ کے خدا نے آپ کوابھی ہجرت کرنے کا حکم نہیںدیاتھا۔خدا کا کلام آپ سنتے تو بے اختیار ہو کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔خصوصاً وہ آیات جن میں آپ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔چنانچہ عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا قرآن شریف کی کچھ آیات پڑھ کر مجھے سنائو۔میں نے اس کے جواب میں کہا۔یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے میں آپ کو کیا سنائوں؟ آپ نے فرمایا میں پسند کرتاہوں کہ دوسرے لوگوں سے بھی قرآن پڑھوا کر سنوں۔اِس پر میں نے سورۂ نساء پڑھ کی سنانی شروع کی۔جب پڑھتے پڑھتے میں اِس آیت پر پہنچا کہ۴۲۳؎ یعنی اُس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر قوم میں سے اس کے نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس قوم کا حساب لیں گے اور تجھ کو بھی تیری قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیںگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ بس کرو۔بس کرو‘‘میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گررہے تھے۔۴۲۴؎ نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سخت بیماری کی حالت میں بھی جبکہ خد اتعالیٰ کی طرف سے گھر میں نماز پڑھ لینے اورلیٹ کر پڑھ لینے تک کی اجازت بھی ہوتی ہے آپ سہارا لے کر مسجد میں نماز پڑھانے کیلئے آتے۔ایک دن آپ نماز کے لئے نہ آسکے تو حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔لیکن اتنے میں طبیعت میں کچھ سہولت معلوم ہوئی تو فوراً دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد کی طرف چل دیئے مگر کمزوری کا یہ حال تھا کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ چلنے میں آپ کے دونوں پائوں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے۔۴۲۵؎