دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 317

تھے تاکہ وہ بغیر سوار کے اِدھر اُدھر بھاگ کر لشکر میں تباہی نہ مچائے۔تھوڑی دیر کی لڑائی میں آپ کا دایاں بازو کاٹا گیا۔تب آپ نے بائیں ہاتھ سے جھنڈا پکڑ لیا۔پھر آپ کا بایاں ہاتھ بھی کاٹا گیا تو آپ نے دونوں ہاتھ کے ٹنڈوں سے جھنڈے کو اپنے سینہ سے لگا لیا اور میدان میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔تب عبداللہ بن رواحہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت جھنڈے کوپکڑ لیااور وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے مارے گئے۔اُس وقت مسلمانوں کے لئے کوئی موقع نہ تھا کہ وہ مشورہ کر کے کسی کو اپنا سردار مقرر کرتے اور قریب تھا کہ دشمن کے لشکر کی کثرت کی وجہ سے مسلمان میدان چھوڑ جاتے کہ خالد بن ولید نے ایک دوست کی تحریک پر جھنڈا پکڑ لیا اور شام تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔دوسرے دن پھر خالد اپنے تھکے ہوئے اور زخم خوردہ لشکر کو لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے اور انہوں نے یہ ہوشیاری کی کہ لشکر کے اگلے حصہ کو پیچھے کر دیا اور پچھلے حصہ کو آگے کر دیا اور دائیں کو بائیں اور بائیں کو دائیں اور اس طرح نعرے لگائے کہ دشمن سمجھا کہ مسلمانوں کو اَور مدد پہنچ گئی ہے۔اس پر دشمن پیچھے ہٹ گیا اور خالدؓ اسلامی لشکر کو بچا کر واپس لے آئے۔۳۴۶؎ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی خبر اُسی دن وحی کے ذریعہ سے دے دی اور آپ نے اعلان کر کے سب مسلمانوں کو مسجد میں جمع کیا۔جب آپ ممبر پر چڑھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔آپ نے فرمایا اے لوگو! میں تم کو اس جنگ میں جانے والے لشکر کے متعلق خبر دیتا ہوں۔وہ لشکر یہاں سے جا کر دشمن سے مقابل کھڑا ہوا اور لڑائی شروع ہونے پر پہلے زیدؓ مارے گئے پس تم لوگ زیدؓ کے لئے دعا کرو۔پھر جھنڈا جعفرؓ نے لے لیا اور دشمن پر حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہوگئے پس تم اُن کے لئے بھی دعا کرو۔پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہؓ نے لیا اور خوب دلیری سے لشکر کو لڑایا مگر آخر وہ بھی شہید ہو گئے پس تم اُن کے لئے بھی دعا کرو۔پھر جھنڈا خالد بن ولیدؓ نے لیا۔اُس کو میں نے کمانڈر مقرر نہیں کیا تھا مگر اُس نے خود ہی اپنے آپ کو کمانڈر مقرر کر لیا۔لیکن وہ خدا تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔پس وہ خدا تعالیٰ کی مدد سے اسلامی لشکر کو بحفاظت واپس لے آئے۔آپ کی اِس تقریر کی وجہ سے خالدؓ کا نام مسلمانوں میں سیف اللہ یعنی خدا کی تلوار مشہور ہو گیا۔۳۴۷؎ چونکہ خالد آخر میں