دیباچہ تفسیر القرآن — Page 318
ایمان لائے تھے بعض صحابہ اُن کو مذاقاً یا کسی جھگڑے کے موقع پر طعنہ دے دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی ایسی ہی بات پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓسے ان کی تکرار ہو گئی۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالد کی شکایت کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خالد! تم اِس شخص کو جو کہ بدر کے وقت سے اسلام کی خدمت کر رہا ہے کیوں دُکھ دیتے ہو؟ اگر تم اُحد کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو اِس کے برابر خدا تعالیٰ سے انعام حاصل نہیں کر سکتے۔اِس پر خالدؓ نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! یہ مجھے طعنہ دیتے ہیں تو پھر میں بھی جواب دیتا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم لوگ خالدکو تکلیف نہ دیا کرو۔یہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو خدا تعالیٰ نے کفار کی ہلاکت کے لئے کھینچی ہے۔۳۴۸؎ یہ پیشگوئی چندسالوں بعد حرف بحرف پوری ہوئی۔جب خالد اپنے لشکر کو واپس لائے تو مدینہ کے صحابہؓ جو ساتھ نہ گئے تھے اُنہوں نے اس کے لشکر کو بھگوڑے کہنا شروع کیا۔مطلب یہ تھا کہ تم کو وہیں لڑ کر مرجانا چاہئے تھا واپس نہیں آنا چاہئے تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بھگوڑے نہیں بار بارلَوٹ کر دشمن پر حملہ کرنے والے سپاہی ہیں۔اِس طرح آپ نے اُن آئندہ جنگوں کی پیشگوئی فرمائی جو مسلمانوں کو شام کے ساتھ پیش آنے والی تھیں۔فتح مکہ آٹھویں سنہ ہجری کے رمضان کے مہینہ مطابق دسمبر ۶۲۹ء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس آخری جنگ کے لئے روانہ ہوئے جس نے عرب میں اسلام کو قائم کر دیا۔یہ واقعہیوں ہو اکہ صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عرب قبائل میں سے جو چاہیں مکہ والوں سے مل جائیں اور جو چاہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائیں اور یہ کہ دس سال تک دونوں فریق کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں ہو گی۔سوائے اس کے کہ ایک دوسرے پر حملہ کر کے معاہدہ کو توڑ دے۔اس معاہدہ کے ماتحت عرب کا قبیلہ بنو بکرمکہ والوں کے ساتھ ملا تھا اور خزاعہ قبیلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔کفارِ عرب معاہدہ کی پابندی کا خیال کم ہی رکھتے تھے خصوصاً مسلمانوں کے مقابلہ میں۔چنانچہ بنو بکر کو چونکہ قبیلہ خزاعہکے ساتھ پُرانا اختلاف تھا، صلح حدیبیہ پر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے مکہ والوں سے مشورہ کیا کہ خزاعہ تو معاہدہ کی وجہ سے بالکل مطمئن ہیں اب موقع ہے کہ ہم لوگ ان سے