دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 316

عورت کو مارنا اور نہ کسی بچے کو مارنا اور نہ کسی اندھے کو مارنا اور نہ کسی بڈھے کو مارنا۔نہ کوئی درخت کا ٹنا نہ عمارت گرانا۔یہ نصیحت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹے اور اسلامی لشکر شام کی طرف روانہ ہوا۔یہ پہلا لشکر تھا جو اسلام کی طرف سے عیسائیت کے مقابلہ کے لئے نکلا۔جب یہ لشکر شام کی سرحد پر پہنچا توا سے معلوم ہوا کہ قیصر بھی اِس طرف آیا ہوا ہے اور ایک لاکھ رومی سپاہی اس کے ساتھ ہیں اور ایک لاکھ کے قریب عرب کے عیسائی قبائل کے سپاہی بھی اس کے ساتھ ہیں۔اس پر مسلمانوں نے چاہا کہ وہ راستہ میں ڈیرہ ڈال دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیں تاکہ اگر آپ نے کوئی اور مدد بھیجنی ہو تو بھیج دیں اور اگر کوئی حکم دینا ہو تو اس سے اطلاع دیں۔جب یہ مشورہ ہو رہا تھا عبداللہ بن رواحہؓ جوش سے کھڑے ہو گئے اور کہا اے قوم! تم اپنے گھروں سے خدا کے راستہ میں شہید ہونے کیلئے نکلے تھے اور جس چیز کے لئے تم نکلے تھے اب اُس سے گھبرا رہے ہو اور ہم لوگوں سے اپنی تعداد اور اپنی قوت اور اپنی کثرت کی وجہ سے تو لڑائیاں نہیں کرتے رہے۔ہم تو اس دین کی مدد کیلئے دشمنوں سے لڑتے رہے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے لئے نازل کیا ہے۔اگر دشمن زیادہ ہے تو ہوا کرے۔آخر دو نیکیوں میں سے ہم کو ایک ضرور ملے گی یا ہم غالب آ جائیں گے یا ہم خدا کی راہ میں شہید ہو جائیںگے۔لوگوں نے اُن کی یہ بات سن کے کہا ابن رواحہؓ بالکل سچ کہتے ہیں اور فوراً کوچ کا حکم دے دیا گیا۔جب وہ آگے بڑھے تو رومی لشکر انہیں اپنی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو مسلمانوں نے موتہ کے مقام پر اپنی فوج کی صف بندی کر لی اور لڑائی شروع ہو گئی۔تھوڑی ہی دیر میں زید بن حارثہؓ جو مسلمانوں کے کمانڈر تھے مار ے گئے تب اسلامی فوج کا جھنڈا جعفر بن ابی طالبؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فوج کی کمان سنبھال لی۔جب اُنہوں نے دیکھا کہ دشمن کی فوج کا ریلا بڑھتا چلا جاتا ہے اور مسلمان اپنی تعداد کی قلت کی وجہ سے ان کے دبائو کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ جوش سے گھوڑے سے کود پڑے اور اپنے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں۔جس کے معنی یہ تھے کہ کم سے کم میں تو اِس میدان سے بھاگنے کے لئے تیار نہیں ہوں میں موت کو پسند کروں گا مگر بھاگنے کو پسند نہیں کروںگا۔یہ ایک عربی رواج تھا۔وہ گھوڑے کی ٹانگیں اِس لئے کاٹ دیتے