دیباچہ تفسیر القرآن — Page 273
وقفہ پڑ جانا اُس زمانہ میں جنگ کے ختم ہوجانے کے مترادف نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ وقفہ بھی جنگ ہی میں شمار کیا جاتا تھا۔بعض لوگوں کے دلو ں میں اِس موقع پر یہ سوال پید اہو سکتا ہے کہ کیا ایک سچے مذہب کے لئے لڑائی کرنا جائز ہے؟ یہودیت اور عیسائیت کی تعلیم دربارہ جنگ میں اِس جگہ اس سوال کا جواب بھی دے دینا ضروری سمجھتا ہوں جہاں تک مذاہب کا سوال ہے لڑائی کے بارہ میں مختلف تعلیمیں ہیں۔موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم لڑائی کے بارہ میں اُوپر درج کر آیا ہوں۔تورات کہتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ بزور کنعان میں گھس جائیں اور اُس جگہ کی قوموں کو شکست دے کر اس علاقہ میں اپنی قوم آباد کریں ۲۹۸؎ مگر باوجود اس کے کہ موسیٰ نے یہ تعلیم دی اور باوجود اس کے کہ یوشع ، دائود اور دوسرے انبیاء نے اِس تعلیم پر متواتر عمل کیا یہودی اورعیسائی اُن کو خدا کا نبی اور تورات کو خدا کی کتاب سمجھتے ہیں۔موسوی سلسلہ کے آخر میں حضرت مسیحؑ ظاہر ہوئے اُن کی جنگ کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۲۹۹؎ اس سے استنباط کرتے ہوئے عیسائی قوم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مسیح نے لڑائی سے قوموں کو منع کیا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل میں اس تعلیم کے خلاف اور تعلیمیں بھی آئی ہیں۔مثلاً انجیل میں لکھا ہے:۔’’ یہ مت سمجھو کہ میں ز مین پر صلح کروانے آیا ہوں، صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں‘‘۳۰۰؎ اسی طرح لکھا ہے:۔’’اُس نے اُنہیں کہا پر اَب جس کے پاس بٹوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی۔اور جس کے پاس تلوار نہیں اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدے‘‘۔۳۰۱؎ یہ آخری دو تعلیمیں پہلی تعلیم کے بالکل متضاد ہیں۔اگر مسیح جنگ کرانے کے لئے آیا تھا تو پھر ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کے کیا معنی تھے؟ پس یا تو یہ دونوں قسم کی تعلیمیں متضاد ہیں