دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 272

پیشکش سے وہ فوراً ہی نئی اُمنگوں اور نئی آرزوئوں میں بدل جاتی اور یہ سمجھا جاتا کہ مسلمان باوجود مدینہ کو تباہی سے بچا لینے کے آخری کامیابی سے مایوس ہوچکے تھے۔پس صلح کی تحریک مسلمانوں کی طرف سے کسی صورت میں بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ا گر کوئی صلح کی تحریک کر سکتا تھا تو یا مکہ والے کر سکتے تھے یا کوئی تیسری ثالث قوم کر سکتی تھی۔مگر عرب میں کوئی ثالث قوم باقی نہیں رہی تھی۔ایک طرف مدینہ تھا اور ایک طرف سارا عرب تھا۔پس عملی طور پر کفّار ہی تھے جو اس تجویز کو پیش کر سکتے تھے۔مگر اُن کی طرف سے صلح کی کوئی تحریک نہیں ہو رہی تھی۔یہ حالات اگر سَو سال تک بھی جاری رہتے تو قوانین جنگ کے ماتحت عرب کی خانہ جنگی جاری رہتی۔پس جبکہ مکہ کے لوگوں کی طرف صلح کی تجویز پیش نہیں ہوئی تھی اور مدینہ کے کفار عرب کی ماتحتی ماننے کے لئے کسی صورت میں تیار نہ تھے تو اب ایک ہی راستہ کھلا رہ جاتا تھا کہ جب مدینہ نے عرب کے متحدہ حملہ کو بیکار کر دیا تو خود مدینہ کے لوگ باہر نکلیں اور کفّارِ عرب کو مجبور کر دیں کہ یا وہ اُن کی ماتحتی قبول کرلیں یا اُن سے صلح کر لیں۔اور اِسی راستہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔پس گو یہ راستہ بظاہر جنگ کا نظر آتا ہے لیکن درحقیقت صلح کے قیام کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ کھلا نہ تھا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو ممکن ہے جنگ سَو سال تک لمبی چلی جاتی جیسا کہ ایسے ہی حالات میں پرانے زمانہ میں جنگیں سَو سَو سال تک جاری رہی ہیں۔خود عرب کی کئی جنگیں تیس تیس، چالیس چالیس سال تک جاری رہی ہیں۔اِن جنگوں کی طوالت کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ کے ختم کرنے کے لئے کوئی ذریعہ اختیار نہیں کیا جاتا تھا اور جیساکہ میں بتا چکا ہوں جنگ کے ختم کرنے کے دو ہی ذرائع ہوا کرتے ہیں یا ایسی جنگ لڑی جائے جو دو ٹوک فیصلہ کر دے اور دونوں فریق میں سے کسی ایک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے اور یا باہمی صلح ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک ایسا کر سکتے تھے کہ مدینہ میں بیٹھے رہتے اور خود حملہ نہ کرتے۔لیکن چونکہ کفّارِ عرب جنگ کی طرح ڈال چکے تھے آپ کے خاموش بیٹھنے کے یہ معنی نہ ہوتے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہوتے کہ جنگ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے کھلا رکھا گیا ہے۔کفّارِ عرب جب چاہتے بغیر کسی اور محرک کے پیدا ہونے کے مدینہ پر حملہ کر دیتے اور اُس وقت تک کے دستور کے مطابق وہ حق پر سمجھے جاتے کیونکہ جنگ میں