دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 274

یا اِن دونوںتعلیموں میں سے کسی ایک کو اس کے ظاہر سے پھرا کر اس کی کوئی تأویل کرنی پڑے گی۔میں اِس بحث میں نہیں پڑتا کہ ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کی تعلیم قابلِ عمل ہے یا نہیں۔میں اس جگہ پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اوّل عیسائی دنیا نے اپنی ساری تاریخ میں جنگ سے دریغ نہیں کیا۔جب عیسائیت شروع شروع میں روما میں غالب تھی تب بھی اُس نے غیرقوموں سے جنگیں کیں۔دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحا نہ بھی۔اور اب جبکہ عیسائیت دنیا میں غالب آگئی ہے اب بھی وہ جنگیں کرتی ہے۔دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحانہ بھی۔صرف فرق یہ ہے کہ جنگ کرنے والوں میں سے جو فریق جیت جاتا ہے اُس کے متعلق کہہ دیا جاتا تھا کہ وہ کرسچن سویلزیشن کا پابند تھا۔کرسچن سویلزیشن اِس زمانہ میں صرف غالب اور فاتح کے طریق کا نام ہے اور اس لفظ کے حقیقی معنی اب کوئی بھی باقی نہیں رہے۔جب دوقو میں آپس میں لڑتی ہیں تو ہر قوم اِس بات کی مدعی ہوتی ہے کہ وہ کرسچن سویلزیشن کی تائید کر رہی ہے اور جب کوئی قوم جیت جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس جیتی ہوئی قوم کا طریق کار ہی کرسچن سویلزیشن ہے۔مگر بہرحال مسیحؑ کے زمانہ سے آج تک عیسائی دنیا جنگ کرتی چلی آرہی ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ جنگ کرتی چلی جائے گی۔پس جہاں تک مسیحی دنیا کے فیصلہ کا تعلق ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’ تم اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدو‘‘۔’’اورمیں صلح کرانے کے لئے نہیں بلکہ تلوار چلانے کے لئے آیا ہوں‘‘۔یہ اصل قانون ہے اور ’’ تو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دے‘‘۔یہ قانون یا تو ابتدائی عیسائی دنیا کی کمزوری کے وقت مصلحتاً اختیار کیا گیا تھا یا پھر عیسائی افراد کے باہمی تعلقات کی حد تک یہ قانون محدود ہے۔حکومتوں اور قوموں پر یہ قانون چسپاں نہیں ہوتا۔دوسرے اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ مسیحؑ کی اصل تعلیم جنگ کی نہیں تھی بلکہ صلح ہی کی تھی تب بھی اس تعلیم سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص اس تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے وہ خدا کا برگزیدہ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ عیسائی دنیا آج تک موسٰی ؑ اور یوشعؑ اور دائودؑ کو خدا کا برگزیدہ قرار دیتی ہے بلکہ خود عیسائیت کے زمانہ کے بعض قومی ہیرو جنہوں نے اپنی قوم کے لئے جان کو خطرہ میں ڈال کر دشمنوں سے جنگیں کی ہیں مختلف زمانہ کے پوپوں کے فتویٰ کے مطابق آج سینٹ کہلاتے ہیں۔