دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 244

اُسے نقصان پہنچا سکتا تھا۔خبیبؓ نے اُس کے چہرے سے پریشانی کو بھانپ لیا اور کہا کہ کیا تم خیال کرتی ہو کہ میں تمہارے بچے کو قتل کردونگا؟ یہ خیال کبھی دل میں نہ لائو میں ایسا بُرا فعل نہیں کر سکتا۔مسلمان دھوکا باز نہیں ہوتے۔وہ عورت خبیبؓ کے اِس دیانتدارانہ اور صحیح طریق عمل سے بہت متأثر ہوئی۔اِس بات کو اُس نے ہمیشہ یاد رکھا اور ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ میں نے خبیبؓ سا قیدی کوئی نہیں دیکھا۔آخر کار مکّہ والے خبیبؓ کو ایک کھلے میدان میں لے گئے تا اُس کو قتل کر کے جشن منائیں۔جب اُن کے قتل کا وقت آن پہنچاتو خبیبؓ نے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔قریش نے اُن کی یہ بات مان لی اور خبیبؓ نے سب کے سامنے اِس دنیا میں آخری بار اپنے اللہ کی عبادت کی۔جب وہ نماز ختم کر چکے تو اُنہوں نے کہا کہ میں اپنی نماز جاری رکھنا چاہتا تھا مگر اس خیال سے ختم کر دی ہے کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں۔پھر آرام سے اپنا سر قاتل کے سامنے رکھ دیااور ایسا کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے: وَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلٰی اَیِّ جَنْبٍ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِیْ وَذٰلِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَأْ یُبَارِکُ عَلٰی اَوصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعٖ۲۷۲؎ یعنی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں تو مجھے پرواہ نہیں ہے کہ میں کس پہلو پر قتل ہو کر گروں۔یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے۔اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔خبیبؓ نے ابھی یہ شعر ختم نہ کیے تھے کہ جلاد کی تلوار اُن کی گردن پر پڑی اور اُن کا سر خاک پر آگرا۔جو لوگ یہ جشن منانے کے لئے جمع ہوئے تھے اُن میں ایک شخص سعید بن عامر بھی تھاجو بعد میں مسلمان ہو گیا۔کہتے ہیں کہ جب کبھی خبیبؓ کے قتل کا ذکر سعید کے سامنے ہوتا تو اس کو غش آجایا کرتا۔۲۷۳؎ دوسرا قیدی زید بھی قتل کرنے کے لئے باہر لے جایا گیا۔اِس تماشہ کو دیکھنے والوں میں ابوسفیان رئیس مکہ بھی تھا۔وہ زید کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمدؐ تمہاری جگہ پر ہواور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو؟زیدؓ نے بڑے غصہ سے جواب دیا کہ ابوسفیان!تم کیا کہتے ہو؟ خدا کی قسم! میرے لئے مرنا اِس سے بہتر ہے کہ آنحضرتﷺ کے