دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 243

لیں یا موت کے گھاٹ اُتار دیں۔اِس ناپاک منصوبے کے ماتحت بنولحیان کے دو سَو مسلح آدمی مسلمانو ں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور آخر مقامِ رجیع میں اُن کو آگھیرا۔دس مسلمانوں اور دو سَو دشمنوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔مسلمانوں کے دل نورِ ایمان سے پُر تھے اور دشمن اِس سے تہی تھے۔دس مسلمان ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے اور دو سَو آدمیوں کو دعوتِ مبارزت دی۔دشمن نے ایک فریب کر کے اُن کو گرفتار کرنا چاہااور اُن سے کہا کہ اگر تم نیچے اُتر آئو توتمہیں کچھ نہ کہا جائے گا،مگر مسلمانوں کے امیر نے کہا کہ ہم کافروں کے عہدوپیمان کو خوب دیکھ چکے ہیں۔اس کے بعد اُنہوں نے آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا اے خدا! تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔جب کفّار نے دیکھا کہ مسلمانوں کی اِس چھوٹی سی جماعت پر اُن کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو انہوں نے اُن پر حملہ کر دیا اور مسلمان بغیر خوفِ شکست کے لڑتے چلے گئے،یہاں تک کہ دس میں سے سات شہید ہو گئے۔باقی تین جو بچ رہے تھے اُن کو کفّار نے پھروعدہ دیاکہ ہم تمہاری جانیں بچا لیں گے بشرطیکہ تم ٹیلے سے نیچے اُتر آئو۔لیکن جب وہ کفّار کے وعدہ پر اعتبار کرکے نیچے اُتر آئے تو کفار نے اُنہیں اپنی کمانوں کی تانتوں سے جکڑ کر باندھ لیا۔اِس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ یہ پہلی خلاف ورزی ہے جو تم اپنے عہد کی کر رہے ہواللہ ہی جانتا ہے کہ تم اِس کے بعد کیا کرو گے۔یہ کہہ کر اُس نے اُن کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔کفّارنے اُس کو مارنا اور گھسیٹنا شروع کر دیا۔مگر آخر اُس کے مقابلے اور استقلال سے اِس قدر مایوس ہو گئے کہ اُنہوں نے اُس کو وہیں قتل کر دیا۔باقی دو کو وہ ساتھ لے گئے اور بطور غلاموں کے قریش مکہ کے پاس فروخت کر دیا۲۷۱؎ ان میں سے ایک کا نام خبیبؓ تھااور دوسرے کا زید۔خبیبؓ کا خریدار اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے جسے خبیبؓ نے جنگِ بدر میں قتل کیا تھاخبیب کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ایک دن خبیب ؓ نے اپنی ضرورت کے لئے اُسترا مانگا۔اُسترا خبیبؓ کے ہاتھ میں تھا کہ گھر والوں کا ایک بچہ کھیلتے ہوئے اُس کے پاس چلا گیا۔خبیب ؓ نے اِس کو اُٹھا کر اپنی ران پر بیٹھا لیا۔بچے کی ماں نے جب یہ دیکھا تو دہشت زدہ ہو گئی اور اُسے یقین ہوگیا کہ اب خبیبؓ بچے کو قتل کر دے گا کیونکہ وہ خبیبؓ کو چند دنوں میں قتل کرنے والے تھے۔اُس وقت اُسترا اُس کے ہاتھ میں تھا اوربچہ اُس کے اتنا قریب تھاکہ وہ