دیباچہ تفسیر القرآن — Page 245
پائوں کو مدینہ کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔اِس فدائیت سے ابوسفیان متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکااور اُس نے حیرت سے زید کی طرف دیکھااور فوراً ہی دبی زبان میں کہاکہ خدا گواہ ہے کہ جس طرح محمدؐکے ساتھ محمدؐ کے ساتھی محبت کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھاکہ کوئی اور شخص کسی سے محبت کرتا ہو۔۲۷۴؎ ۷۰ حفاظِ قرآن کے قتل کا حادثہ انہی ایام کے قریب قریب نجد کے کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تااُن کے ساتھ چند مسلمانوں کو بھیج دیا جائے تاکہ وہ اُن کو اِسلام سکھلائیں۔آنحضرتﷺ نے اُن کا اعتبارنہ کیا۔مگر ابوبراء نے جو اُس وقت مدینہ میں تھے کہاکہ میں اس قبیلہ کی طرف سے ضمانتی بنتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا کہ وہ کوئی شرارت نہیں کریں گے۔اِس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ مسلمانوں کو جو حافظ قرآن تھے اِس کام کے لئے انتخاب کیا۔جب یہ جماعت بئر معونہ پرپہنچی تو اُن میں سے ایک شخص حرام بن ملحان قبیلہ عامر کے رئیس کے پاس گیا جو ابوبراء کا بھتیجا تھاتاکہ اُس کو اِسلام کا پیغام دے۔بظاہر قبیلہ والوں نے حرام کا اچھی طرح استقبال کیا مگر جس وقت وہ رئیس کے سامنے تقریر کر رہے تھے تو ایک آدمی چھپ کر پیچھے سے آیااوراُن پر نیزہ سے حملہ کیا۔حرامؓ وہیں مارے گئے۔جب نیزہ اُن کے گلے سے پار ہوا تو وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔یعنی اللہ اکبر۔کعبہ کے ربّ کی قسم !میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔۲۷۵؎ اِس دھوکا بازی سے حرامؓ کے قتل کرنے کے بعد قبیلہ کے سرداروں نے اہلِ قبیلہ کو جوش دلایاکہ باقی جماعت معلّمین پر بھی حملہ کریں۔مگر قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے رئیس ابوبراء نے ضامن بننا منظور کیا ہے ہم اِس جماعت پر حملہ نہیں کر سکتے۔اس پر قبیلہ کے سرداروں نے اُن دو قبیلوںکی مددکے ساتھ جو مسلمان معلّمین کو لانے کے لئے گئے تھے،جماعت معلّمین پر حملہ کر دیا۔اُن کا یہ کہنا کہ ہم وعظ کرنے اور اِسلام سکھانے آئے ہیں لڑنے نہیں آئے بالکل کارگر نہ ہوا اور کفار نے مسلمانوں کوقتل کرنا شروع کردیا۔آخر تین آدمیوں کے سِوا باقی سب شہید ہوگئے۔اس جماعت میں سے ایک آدمی لنگڑا تھااور لڑائی ہونے سے پہلے پہاڑی پر چڑھ گیا تھااور دو