دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 242

وہ زمانہ جس نے اس قدر بڑا تمدّنی انقلاب پیدا کر دیا؟ غزوہ اُحد کے بعد کفّار قبائل کے ناپاک منصوبے اُحد کا واقعہ ایسی بات نہ تھی کہ آسانی سے بھولا جا سکتا۔مکّہ والوں نے خیال کیا تھا کہ یہ اُن کی اسلام کے خلاف پہلی فتح ہے اُنہوں نے اس کی خبر تمام عرب میں شائع کی اور عرب کے قبائل کو اِسلام کے خلاف بھڑکانے اور یہ یقین دلانے کا ذریعہ بنایا کہ مسلمان نا قابلِ تسخیر نہیں ہیں۔اور اگر وہ ترقی کرتے رہے ہیں تو اس کی وجہ اُن کی طاقت نہیںتھی بلکہ عرب قبائل کی بے توجہی تھی۔عرب متحدہ کوشش کریں تو مسلمانوں پر غالب آ جانا کوئی مشکل امر نہیں۔اِس پروپیگنڈا کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف مخالفت زور پکڑتی گئی اور دیگر قبائل نے مسلمانوں کو تکلیف دینے میں مکہ والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا شروع کیا۔بعض نے کھلم کھلا حملے شروع کر دئیے اور بعض نے خفیہ طور پر اُن کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ہجرت کے چوتھے سال عرب کے دو قبائل عضل اور قارۃ نے اپنے نمائندے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج کر عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اِسلام کی طرف مائل ہیں اور درخواست کی کہ کچھ آدمی جو تعلیم اِسلام سے پوری طرح سے واقف ہوں،بھیج دئیے جائیں تاکہ وہ اُن کے درمیان رہ کر اُن کو اِس نئے مذہب کی تعلیم دیں۔دراصل یہ ایک سازش تھی جو اِسلام کے پکے دشمن بنولحیان نے کی تھی اور ان کا مقصد یہ تھا کہ جب یہ نمائندے مسلمانوں کو لے کر آئیں گے تو وہ اُن کو قتل کر کے اپنے رئیس سفیان بن خالد کا بدلہ لیں گے۔چنانچہ اُنہوں نے عضل اور قارۃ کے نمائندوں کو اِس غرض سے کہ وہ چند مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے آئیں، انعام کے بڑے بڑے وعدے دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا۔جب عضل اور قارۃ کے لوگوں نے آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر درخواست کی تو آپ نے اُن کی بات پر اعتبار کر کے دس مسلمانوں کو اُن کے ساتھ کر دیا کہ ان کو اِسلام کے عقائد اور اصولوں کی تعلیم دیں۔جب یہ جماعت بنولحیان کے علاقہ میں پہنچی تو عضل اور قارۃ کے لوگوں نے بنولحیان کو اطلاع بھجوادی ور اُن کو کہلا بھیجا کہ مسلمانوں کو یاتوگرفتار کر