دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 199

عبادت کا مرکز بننے والا تھا اور آپ کے پیچھے نبیوں کے نماز پڑھنے کی تعبیر یہ تھی کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپ کے مذہب میں داخل ہوں گے اورآپ کا مذہب عالمگیر ہو جائے گا۔یہ وقت مکہ میں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی سخت تھا اور تکالیف انتہاء کو پہنچ چکی تھیں۔اس کشف کا سنانا مکہ والوں کے لئے ہنسی اور استہزاء کا ایک نیا موجب ہو گیا اور اُنہوں نے ہر مجلس میں آپ کے اِس کشف پر ہنسی اُڑانی شروع کی۔مگر کون جانتا تھا کہ نئے یروشلم کی تعمیر شروع تھی۔مشرق و مغرب کی قومیں کان دھرے خد اکے آخری نبی کی آواز سننے کے لئے متوجہ کھڑی تھیں۔رومیوں کے غلبہ کی پیشگوئی اِنہی ایام میں قیصر اور کسریٰ کے درمیان ایک خطرناک جنگ ہوئی اور کسریٰ کو فتح حاصل ہوئی۔شام میں ایرانی فوجیں پھیل گئیں۔یروشلم تباہ کر دیا گیا۔حتی کہ ایرانی فوجیں یونان اور ایشائے کوچک تک پہنچ گئیں اور باسفورس کے دہانہ پر ایرانی جرنیلوں نے قسطنطنیہ سے صرف دس میل کے فاصلہ پر اپنے خیمے گاڑ دئیے۔اِس واقعہ پر مکہ کے لوگوں نے خوشیاں منانی شروع کیں اور کہا خد اکا فیصلہ ظاہر ہو گیا ہے۔بت پرست ایرانیوں نے اہل کتاب عیسائیوں کو شکست دے دی۔اُس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خبر دی گئی کہ۲۲۴؎ یعنی رومی فوجیں عرب کے قریب ممالک میں شکست کھا گئی ہیں لیکن اپنی شکست کے بعد پھر اُن کو فتح حاصل ہو گی چند سال کے اندر اندر۔خدا ہی کا اختیار دنیا میں پہلے بھی رائج تھا اور آئندہ بھی رائج رہے گا۔جب وہ فتح کا دن آئے گا اُس وقت مؤمنوں کو بھی خد اکی مدد سے خوشی نصیب ہوگی۔خدا جن کو چن لیتا ہے اُن کی مدد کرتا ہے وہ بڑی شان والا اور بڑا مہربان ہے۔یہ اُس خد اکا وعدہ ہے جو اپنے وعدوں کو تبدیل نہیں کرتا۔لیکن اکثر لوگ خد اکی قدرتوں سے ناواقف ہیں۔چند ہی سال بعد خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی پوری کر دی۔ایک طرف رومیوں نے ایرانیوں کو شکست دے کر اپنے ملک کو آزاد کرا لیا اور دوسری