دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 200

طرف جیسا کہ کہا گیا تھا اُنہی ایام میں مسلمانوں کو مکہ کے لوگوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونی شروع ہوئیں۔جبکہ مکہ کے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ اُنہوں نے لوگوں کو مسلمانوں کی باتیں سننے سے روک کر اور مسلمانوں پر ظلم کرنے پر آمادہ کر کے اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔خد اکا کلام متواتر اسلام کی فتوحات کی خبریں دے رہا تھا اور بتا رہاتھا کہ مکہ والوں کی تباہی کی گھڑی قریب سے قریب تر آرہی ہے۔چنانچہ انہی ایام میں محمد رسول اللہ ﷺ نے بڑے زور سے خدا تعالیٰ کی اس وحی کا اعلان کیا کہ ۲۲۵؎ یعنی مکہ والے کہتے ہیں کہ کیوں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ربّ کے پاس سے کوئی نشان ہمارے لئے نہیں لاتا۔کیا پہلے نبیوں کی پیشگوئیاں جو اس کے حق میں ہیں وہ اُن کے لئے کافی نشان نہیں ہے۔ہم اگر پوری تبلیغ سے پہلے ہی مکہ والوں کو ہلاک کر دیتے تو مکہ والے کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے ربّ! کیوں تو نے ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رُسوا ہونے سے پہلے تیری تعلیموں کے پیچھے چلتے۔تو کہہ دے ہر شخص کو اپنے وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے پس تم بھی اُس گھڑی کا انتظا رکرو جب حجت تمام ہو جائے گی تب تم یقینا جان لو گے کہ سیدھے راستہ پر اور خدا تعالیٰ کی ہدایت پر کون چل رہا ہے۔ہر روز خد اکی نئی وحی نازل ہو رہی تھی اور ہر روز وہ اسلام کی ترقی اور کفّار کی تباہی کی خبریں دے رہی تھی۔مکہ والے ایک طرف اپنی طاقت اور شوکت کو دیکھتے تھے اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی کمزوری کو دیکھتے تھے اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور مسلمانوں کی کامیابیوں کی خبریں پڑھتے تھے تو حیران ہو کر سوچتے تھے کہ آیا وہ پاگل ہو گئے ہیں یا محمد ’’ رسول اللہ ‘‘ پاگل ہو گیا ہے۔مکہ والے تو یہ امیدیں کر رہے تھے کہ ہمارے ظلموں اور ہماری تعدّی کی وجہ سے اب مسلمانوں کو مایوس ہو کر ہماری طرف آ جانا چاہئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود بھی اور اُن کے ساتھیوں کو بھی