دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 198

دعویٰ کو سنا آپ کی سچائی اُن کے دلوں میں گھر کر گئی اور اُنہو ںنے کہا یہ تو وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی یہودی ہمیں خبر دیا کرتے تھے۔پس بہت سے نوجوان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی سچائی سے متأثر ہوئے اور یہودیوں سے سنی ہوئی پیشگوئیاں اُن کے ایمان لانے میں مؤید ہوئیں۔چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر پھر مدینہ کے لوگ آئے۔بارہ آدمی اِس دفعہ مدینہ سے یہ ارادہ کرکے چلے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہو جائیں گے۔اِن میں سے دس خزرج قبیلہ کے تھے اور دو اوس کے۔منٰی میں وہ آپ سے ملے اوراُنہوں نے آپ کے ہاتھ پر اِس بات کا اقرار کیا کہ وہ سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے، وہ چوری نہیں کر یں گے، وہ بدکاری نہیں کر یں گے، وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کر یں گے، وہ ایک دوسرے پر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے، نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گے۔۲۲۲؎ یہ لوگ واپس آگئے تو اُنہو ں نے اپنی قوم میں اور بھی زیادہ زور سے تبلیغ شروع کر دی۔مدینہ کے گھروں میں سے بت نکال کر باہر پھینکے جانے لگے۔بتوں کے آگے سر جھکانے والے لوگ اب گردنیں اُٹھا کر چلنے لگے۔خد اکے سوا اب لوگوں کے ماتھے کسی کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔یہودی حیران تھے کہ صدیوں کی دوستی اور صدیوں کی تبلیغ سے جو تبدیلی وہ نہ پیدا کر سکے اسلام نے وہ تبدیلی چند دنوں میں پید اکر دی۔توحید کا وعظ مدینہ والوں کے دلوں میں گھر کرتا جاتا تھا۔یکے بعد دیگرے لوگ آتے اور مسلمانوں سے کہتے ہمیں اپنا دین سکھائو۔لیکن مدینہ کے نو مسلم نہ تو خود اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف تھے اور نہ اُن کی تعداد اتنی تھی کہ وہ سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کو اسلام کے متعلق تفصیل سے بتا سکیں اس لئے اُنہو ںنے مکہ میں ایک آدمی بجھوایا اور مبلغ کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعبؓ نامی ایک صحابی کو جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے مدینہ میں تبلیغ اسلام کے لئے بھجوا یا۔مصعبؓ مکہ سے باہر پہلا اسلامی مبلغ تھا۔اسراء اُنہی ایام میں خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کے لئے پھر ایک زبردست بشارت دی۔آپ کو ایک کشف میں بتایا گیا کہ آپ یروشلم گئے ہیں اور نبیوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔۲۲۳؎ یروشلم کی تعبیر مدینہ تھا، جو آئندہ کے لئے خد ائے واحد کی