دیباچہ تفسیر القرآن — Page 158
لیکن عام طور پر دل کی صفائی کے مطابق انسان کے اعمال صادر ہوتے ہیں اور دل کی صفائی کا بہترین ذریعہ اچھا نمونہ ہوتا ہے۔قانون انسان کے دماغ پر اثر ڈالتا ہے لیکن اچھا نمونہ انسا ن کے دل پر اثر ڈالتا ہے۔قانون کی حکومت فکر پر ہوتی ہے لیکن اچھے نمونہ کی حکومت جذبات پر ہوتی ہے۔ہم صرف فکر کی اصلاح سے انسان کی روحانی اور جسمانی اصلاح نہیں کر سکتے۔فکر کا نتیجہ غیر متواتر اعمال کے ذریعہ سے ظاہر ہوتاہے لیکن جذبات کا نتیجہ متواتر اور مسلسل اعمال کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ایک عام خیر خواہ انسان جس رنگ میں اپنے گردو پیش کے لوگوں کی خیر خواہی کرتا ہے اُس کی خیر خواہی کا نمونہ اُس خیر خواہی کے نمونہ سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو ماں اپنے بچہ کے متعلق دکھاتی ہے۔اِس لئے کہ جس کا دماغ اخلاقی تعلیم سے متأثر ہو اہے وہ اُس شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتا جس کے جذبات اخلاقی تعلیم سے متأتر ہوں۔ماں کی محبت اپنے بچہ سے اُس کے جذبات کی وجہ سے ہوتی ہے اور ایک فلاسفر کی محبت اپنے ہمسایوں سے دلائلِ عقلیہ کی بناء پر ہوتی ہے۔انبیاء کے اعمال فکری جذباتی ہوتے ہیں اور لوگوں کے لئے نمونہ جو اعمال دلائل کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں وہ متواتر اور مسلسل نہیں ہو سکتے کیونکہ بعض دفعہ انسان کی توجہ حقیقت کی طرف نہیں پھرتی۔بعض دفعہ اُس کے ارادہ اور عمل کے درمیان ایک لمبی سوچ اور فکر حائل ہو جاتی ہے مگر جو جذبات کے ماتحت لوگوں سے کوئی کام کرتا ہے اُس کے کام فوری ہوتے ہیں اور مسلسل ہوتے ہیں۔ماں کو اگر کوئی لاکھ دلیل دے کہ تُو اپنے بچہ کے لئے قربانی نہ کر جو کر رہی ہے تو وہ کبھی اُس کی بات نہیں مانے گی اوربچے کی تکلیف کے متعلق وہ سوچنے نہیں بیٹھے گی۔وہ اندھا دھند اور فوری طور پر اپنے بچہ کی خیر خواہی کے لئے وہ تدابیر اختیار کر نے کو آمادہ ہو جائے گی جو تدابیر اُس کے نزدیک اُس کے بچہ کے فائدہ کے لئے ضروری ہوں گی اور رات اور دن میں کوئی وقت بھی ایسا نہیں ہو گا جب اُس کا دماغ اپنے بچہ کی خیر خواہی سے خالی ہو۔پس حقیقی اصلاح جبھی ہو سکتی ہے کہ اخلاقِ فاضلہ بنی نوع انسان کے جذبات کا حصہ بنا دئیے جائیں۔وہ اخلاق کے مطالبات کو فکر کے بعد پورا نہ کریں بلکہ اخلاقی مطالبات کو اپنی ذات میں