دیباچہ تفسیر القرآن — Page 157
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مضمون بیان کرنے کے بعد کہ باوجود بہت سی الہامی کتب کے موجود ہونے کے آج سے تیرہ سَو سال پہلے دنیا ایک اَور شریعت اور ایک اَور کتاب کی محتاج تھی میں اِس مضمون کو اختصاراً لیتا ہوں کہ قرآن کریم کس شخص پر نازل ہوا اور کن حالات میں نازل ہوا۔کیونکہ یہ مضمون بھی قرآن کریم کی اہمیت سمجھنے کے لئے نہایت ممد ہے۔گو فلسفی مزاج لوگوں کے لئے تو اتنا دیکھنا ہی کافی ہوتا ہے کہ جو مضمون اِن کے سامنے پیش کیا گیا ہے وہ کیا قیمت رکھتا ہے۔چنانچہ عربی میں مثل ہے اُنْظُرْ اِلٰی مَاقِیْلَ وَلَا تَنْظُرْ اِلٰی مَنْ قَالَ۔تُو یہ دیکھ کہ جو بات کہی گئی وہ کیا ہے اور اِس بات کی طرف نہ دیکھ کہ اس کا کہنے والا کون ہے۔مگر دنیا کی اکثریت یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ کہنے والا کون ہے۔اور خصوصاً الہامی کتابوں کے متعلق تو یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اِن کتابوں کو پیش کرنے والوں کے یعنی اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے متعلق بھی دنیا کو یہ معلوم ہو کہ اُن کی زندگی کیسی تھی کیونکہ مذہبی قانون صرف حکم سے منوایا نہیں جاتا ہے۔حکومت نظام کے لئے قائم ہوتی ہے اور اس کا تعلق صرف ظاہر سے ہوتا ہے اِس لئے کسی ملک کی آئینی تنظیم کے لئے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ اُس میں ایک آئین پایا جائے۔کیونکہ قانون کا منشاء صرف اِس قدر ہوتا ہے کہ لوگوں کا ظاہر قانون کا پابند ہو جائے۔چنانچہ عدالتوں میں کسی کی نیت بُری ثابت کرنا اُس کو مجرم نہیں بنا دیتا جب تک اُس نیت کے مطابق اُس کے فعل کا صدور بھی اُس سے ثابت نہ ہو مگر مذہبی دنیا میں ظاہر سے بھی زیادہ باطن پر زور دیا جاتا ہے۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ظاہر کو ترک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ظاہر ،باطن کی علامت ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ظاہری اصلاح کے ساتھ باطنی اصلاح بھی ہو جائے مگر باطنی اصلاح کے ساتھ ظاہری اصلاح کا ہو جانا لازمی ہے۔جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ آگ ہو لیکن اس سے گرمی پیدا نہ ہو، اِسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ دل میں صفائی ہو اور ظاہری اعمال اُس کے مطابق نہ ہوں۔عارضی کوتاہی یا غفلت اور بات ہے