دیباچہ تفسیر القرآن — Page 159
محسوس کرنے لگیں۔جذبات کو بعض لوگ بُرا کہتے ہیں لیکن جذبات بُرے ہی نہیں اچھے بھی ہوتے ہیں۔جذبہ کے اصل معنی تو یہ ہیں کہ ارادہ اور عمل کے درمیان جو فکر کی لمبی دیوار کھڑی ہوتی ہے وہ چھوٹی کر دی جائے یا بالکل اُڑا دی جائے تاکہ انسانی اعمال محدودہوکر نہ رہ جائیں بلکہ جذبات کی وجہ سے وہ سینکڑوں گنے زیادہ ترقی کر جائیں۔جو شخص خالی فکر سے کام لیتا ہے وہ بہت سا وقت سوچنے اور غور کرنے میں گزار دیتا ہے۔لیکن جو شخص ایک دفعہ سوچ کر اور غور کر کے ایک سچائی کو معلوم کر لیتا ہے اور ایک نیکی کو پا لیتا ہے پھر وہ اُس سچائی اور نیکی کو اپنے دل کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور اسے اپنے جذبات کا حصہ بنا دیتاہے تو وہ اُس نیکی اور سچائی پر عمل کرنے میں اتنا تیز اور پھرتیلا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو صرف فکر سے کام لینے کا عادی ہے اُس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔فکر سے کام لینے والا جتنی دیر میں ایک کام کرے گا جذبات سے کام لینے والا اُتنی دیر میں بیسیوں کام کر جائے گا اور ہم اس جذبات سے کام لینے والے شخص کو وحشی نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ جذبات کا غلام نہیں ہے بلکہ پہلے اُس نے فکر اور غور سے سچائیوں اور نیکیوں کو دریافت کیا اس کے بعد اُس نے اُن سچائیوں اور نیکیوں کو اپنے جذبات کا حصہ بنا لیا۔پس ایسے شخص کا جذباتی عمل غیرارادی نہیں ہوتا بلکہ ارادہ کے تابع ہوتا ہے۔صرف اتنی بات ہے کہ یہ اُس کام کو جو ایک دفعہ فکر سے لے چکا ہے بار بار دُہرانا نہیں چاہتا اور ایک ایسا کا م جو پہلے کیا جا چکا ہو اُس کو بغیر ضرورت دُہرانا عقلمندی تو نہیں بیوقوفی کی بات ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی اصلاح اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک سچائیاں اور نیکیاں انسان کے جذبات کا جزو نہ بن جائیں۔جب تک انسان صرف فکر کی اتباع کرے گا وہ دُبْدَھا۱۸۳؎ اور شک اور دیر کا شکار رہے گا۔جب وہ سچائیوں اور نیکیوں کے اصول کو فکر اور غور سے معلوم کرکے اپنے جذبات کا حصہ بنا لے گا تو دُبْدَھا اور شک اور دیر سے وہ محفوظ ہو جائے گا۔وہ سچائیوں پر عمل کرے گا اور نیکیاں ظاہر کر ے گا مگر بغیر تردّد کے، بغیر شبہ کے، بغیر دُبْدَھا کے۔اوریہ چیز جیساکہ میں نے بتایا ہے بغیر اچھے نمونہ کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ہم عقلی دلیل سے اپنے دماغ کو تسلی دیتے ہیں۔عقلی دلیل محبت کے جذبات کو نہیں اُبھارا کرتی۔محبت کے جذبات کو قربانی اور ایثار کا نمونہ ہی اُبھارا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کے الفاظ کتنے ہی شاندار ہوں اُن سے وہ سوزو گداز پیدا نہیں ہو