دیباچہ تفسیر القرآن — Page 156
اِن آیات میں حضرت موسیٰ کی کتاب استثناء والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ آنے والا موعود جب تک ظاہر نہ ہو جائے اُس وقت تک مسیح کی دوبارہ آمد نہیں ہو گی۔استثناء کی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ موعود نئی شریعت لائے گا۔پس اِس پیشگوئی کو اعمال میں دُہر اکر اِس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ آنے والے موعود کے ذریعہ سے مسیح کی تعلیم منسوخ کر دی جائے گی ورنہ نئی شریعت کے تو کوئی معنی ہی نہیںہو سکتے۔ایک ہی وقت میں ایک قوم میں دو شریعتیں تو چل نہیں سکتیں۔پس یہ آنے والا موعود یقینا ارتقاء کا آخری نقطہ ہے۔جو موسیٰ اور مسیح کی تعلیموں کو منسوخ کرنے والا تھا اور جس کو ایک نئی شریعت دنیا کے سامنے ظاہر کرنی تھی۔اعمال نے ایک اَور روشنی بھی اِس موعود کے متعلق ڈالی ہے اور وہ یہ کہ سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبی گزرے ہیں اُنہوں نے اِس موعود کی خبر دی ہے۔موسیٰ کی خبر کا تو پہلے ذکر آچکا ہے اوردائود نبی سموئیل کے بعد ہوئے ہیں۔اِس لیے اعمال کی آیت ۲۴ کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ سے لے کر تمام انبیاء نے اس آنے والے کی خبر دی ہے۔پس جب تک یہ نبی دنیا میں ظاہر نہ ہو اُس وقت تک دنیا کی روحانی تعمیر مکمل نہیں ہو سکتی۔اور میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ یہ نبی بائبل کی بتائی ہوئی علامتوں کے مطابق سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی شخص نہیں۔حاصل یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تمام انبیاء کا موعود تھا اور آپ کی شریعت ہی تمام انبیاء کی موعود تھی۔پس یہ اعتراض کسی صورت میں درست نہیں ہو سکتا کہ تورات اور انجیل کی موجودگی یا اَور کتابوں کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے۔جب سابق نبیوں نے قرآن کریم کی ضرورت تسلیم کی ہے اور اس کی پیشگوئی کی ہے تو اُن کی اُمتوں کو کیا حق ہے کہ وہ اِس کی ضرورت سے انکار کریںبلکہ اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ قرآن کریم کی ضرورت سے انکار کریں گی تو اُن کے نبیوں کی صداقت بھی مشتبہ ہوجائے گی اور اِن نبیوں کی پیشگوئیاں جھوٹی ثابت ہو کر وہ موسیٰ کے اس قول کی زد میں آجائیں گی ’’ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اُس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی اور اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے تو اس سے مت ڈر‘‘۔۱۸۲؎