دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 135

تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو، اِس میں تو کوئی خاص فضیلت نہیں عمل اصل چیز ہے اور یہ عمل صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات سے ظاہر ہوا۔کیسے کیسے مظالم تھے جو مکہ والوں نے آپ پر اور آپ کی جماعت پر کئے۔کتنے خون تھے جو آپ کے رشتہ داروں اور آپ کے اتباع کے اِن لوگوں نے بہائے۔شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم سر سے لے کر پیر تک گواہ تھا اُن مظالم کا جو آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف روا رکھے کیونکہ کبھی آپ پر سنگباری کی گئی، کبھی آپ پر تیر اندازی کی گئی، کبھی آپ کے جسم کو اَور ذرائع سے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی گئی، وطن سے آپ کو بے وطن ہونا پڑا اور آپ کے صحابہ کو بھی۔پھر مائوں نے بچوں کو چھوڑ دیا، خاوندوں نے بیویوں کو چھوڑ دیا، بھائیوں نے بھائیوں کو چھوڑ دیاا ور مسلمان ایک مقہور اور متروک جماعت ہو کر رہ گئے۔غریب اور کمزور مردو ں کو دو اُونٹوں سے باندھ کر اور متضاد جہتوں کی طرف چلا کر چیر دیا گیا۔عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے ما رکر اُنہیں مار دیا۔غلاموں کو ننگا کر کے سخت پتھروں پر سے گھسیٹا۔جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر اُن کے سینوں پر ظالم کودے اور اصرار کیا کہ تم کہو خدا ایک نہیں بلکہ بت بھی خدا کے شریک ہیں۔جنگ میں مسلمان شہداء کی لاشیں چیر کر اُن کے جگر اور دل نکال کر باہر پھینک دئیے گئے۔اُن کے ناک اور کان کاٹ دئیے گئے۔غرض زندوں اورمُردوں، مردوں اور عورتوں، جوانوں اور بوڑھوں ہر ایک کو دُکھ دیا گیا۔ہر ایک کی تذلیل کی گئی، ہر ایک کے ساتھ خلافِ انسانیت مظالم کا ارتکاب کیا گیا۔یہ سب کچھ ہوا مگر جب خدا تعالیٰ کی نصرت نے آخر مسلمانوں کو فتح دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے دشمنوں کے سامنے صرف یہ اعلان کیا کہ لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ۱۶۳؎ جب ہمیں خدا نے قوت اور طاقت دی ہے ہم اعلان کرتے ہیں کہ مکہ کے تمام لوگوں کو معاف کیا جاتا ہے اور اُن کے مظالم کی اُنہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔یہی نہیں کہ اُن کو سزا نہیں دی گئی بلکہ اُن کے جذبات کا اتنا احترام کیا گیا کہ جب اسلامی لشکر مکہ میں داخل ہونے کے لئے بڑھ رہا تھا تو ایک اِسلامی جرنیل نے یہ کہہ دیا کہ آج ہم زور سے مکہ میں داخل ہوں گے اوراُن مظالم کا بدلہ لیں گے جو مکہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ پر کئے تھے۔اِس پر آپؐ نے اُس جرنیل کو معزول