دیباچہ تفسیر القرآن — Page 136
کر دیا او رفرمایا اِن باتوں سے مکہ والوں کی دل شکنی ہوتی ہے۔کیا مسیح کی زندگی میں کوئی بھی ایسا واقعہ ہے؟ کیا مسیح کے حواریوں کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ ہے؟ کیا ساری مسیحی تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ ہے؟ عیسائی بھی شروع میں مظلوم تھے۔عیسائی بھی شروع میں مغلوب تھے۔مگر جب اُنہیں حکومت ملی کیا اُنہوں نے اپنے دشمنوں اور اپنے مخالفوں کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتائو کیا؟ روما کی تاریخ نکال کر دیکھو اُس کے اَوراق اُن مظالم کی یاد سے سرخ ہو رہے ہیں جو عیسائیوں نے فتح اور غلبہ کے وقت اپنے دشمنوں پر ڈھائے۔پھر مسیح سلامتی کا شہزادہ کس طرح ہوا؟ اُسے تو کسی کو سلامتی دینے کی توفیق ہی نہیں ملی۔جب اُس کے اتباع کو توفیق ملی تو اُنہوں نے سلامتی نہیں دی انہوں نے ہلاکت دی۔اُنہوں نے تباہی دی، اُنہوں نے بربادی دی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ نے فتح اور غلبہ بخشا اور آپ نے اُن وسیع مظالم کے باوجود جن کے مقابلہ میں وہ مظالم جو یہود نے مسیح پر کئے تھے بالکل زرد اور بے حقیقت ہو جاتے ہیں رحم و عفو اور چشم پوشی سے کام لیا۔پس آپ ہی سلامتی کے شہزادے تھے اور آپ ہی یسعیاہ کی پیشگوئی کے مصداق تھے۔ساتویں علامت اُس موعود کی یہ لکھی ہے کہ:۔’’ اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی‘‘۔میں بتا چکا ہوں کہ مسیح کو تو حکومت ملی ہی نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جن کو حکومت ملی اور جن کے صحابہؓ کی زندگیوں میں ہی ساری دنیا پر اسلام قابض ہو گیا اور اس انصاف کے ساتھ انہوں نے حکومت کی کہ نہیں کہہ سکتے اُن کا اقبال بڑا تھا یا اُن کی سلامتی بڑی تھی۔آٹھویں علامت یہ لکھی ہے کہ: ’’ وہ دائود کے تخت پر اور اُس کی مملکت پر آج سے لے کر ابد تک بندوبست کر ے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا‘‘۔مسیح، دائود کے تخت پر کب بیٹھے تھے؟ شاید کہا جائے کہ اُن کی بعثت کے تین سَو سال کے بعد جب رومن حکومت عیسائیت میں داخل ہو گئی تو مسیح کو دائود کے تخت پر حکومت مل گئی۔لیکن یہ معنی درست نہیں ہو سکتے کیونکہ وہاں تو لکھا ہے کہ اُسے وہ حکومت اَبد تک ملے گی لیکن مسیح کی