دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 134

سال کے برابر ہوگی وہ خدا تعالیٰ کی طرف چڑھنا شروع ہو گا اور اس میں کمزوری اور اضمحلال کے آثار پیدا ہو جائیںگے۔اسلام کی ترقی کا زمانہ قرآن کریم سے بھی اور احادیث سے بھی تین سَوسال کا معلوم ہوتا ہے اِس میں ہزار سال شامل کیا جائے تو یہ زمانہ تیرہ سَو سال کا ہو جاتا ہے۔پس سورہ سجدہ کی آیت کو ملا کر اِس آیت کے یہ معنی بنتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کیلئے بشیرو نذیر ہونا اور تمام دنیا کی طرف ہونا تیرہ سَو سال کے بعد کُلّی طور پر ثابت ہو گا۔اِن آیات میں اِس بات کی خبر دی گئی ہے کہ تیرہ سَو سال پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کا نزول ہو گا اور مسیح موعود آپ کی اُمت میں سے ہو گا اور چونکہ تمام انبیاء کا وہی آخری موعود ہے جب وہ آپ کی اُمت میں سے ہوگا تو اِس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ قیامت تک آپ کی شریعت قائم رہنے والی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی اور شخص نہیں آئے گا۔اور چونکہ اُس کے زمانہ میں تبلیغ اِسلام پر خاس طور پر زور دیا جائے گا اور اسلام دنیا میں پھیل جائے گا اِس لئے یہ امر اور بھی مستحکم ہو جائے گا کہ اسلام کو مٹانے والی کوئی طاقت دنیا میں نہیں اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اُس کے مخاطب ہیں جو آہستہ آہستہ اُس میں شامل ہو جائیں گے۔پس ’’ابدیت کا باپ‘‘ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سِوا اور کوئی نہیں۔پانچواں نام آپ کا ’’ سلامتی کا شہزادہ‘‘ رکھا گیا ہے۔چونکہ شہزادہ بمعنی بادشاہ بھی آتا ہے اِس لئے ہم اس کے یہ معنی کر سکتے ہیں کہ وہ سلامتی کابادشاہ ہو گا۔یہ پیشگوئی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں ہوتی ہے۔آپ جس مذہب کے بانی تھے اس کا نام خدا تعالیٰ نے اسلام رکھا تھا یعنی سلامتی۔پس سلامتی کے شہزادے کے معنی ہوں گے اسلام کا بادشاہ۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اسلام کے بادشاہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اسلام آپ ہی کی لائی ہوئی تعلیم کا نام ہے۔اِسلام کے تمام مسائل آپ ہی کی طرف لَوٹتے ہیںا ور آپ ہی کے فیصلہ کے مطابق تمام اِسلامی عالم میں عمل کیاجاتا ہے۔پس آپ تو سلامتی کے شہزادے ہیں لیکن مسیح سلامتی کا شہزادہ کیونکر کہلا سکتا ہے؟ پھر کسی شخص کو اگر کسی چیز کا شہزادہ کہا جائے تو اِس کے ایک یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ وہ چیز اُس میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔اُس کو نہ حکومت ملی نہ اُس نے عفو اور رأفت سے کام لیا۔محض منہ سے کہہ دینا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو