دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 2

قسم کا ترجمہ ایک رائے کا اظہار تو کہلا سکتا ہے حقیقت کا آئینہ دار نہیں کہلا سکتا۔اِن نقائص کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضرورت شدید طور پر محسوس ہوتی تھی کہ ایک ایسا ترجمہ قرآن کریم کا غیر عربی دان لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو: (الف) عربی دان افراد کی کوشش اور محنت کا نتیجہ ہو اور: (ب) جو لغتِ عربی پر مبنی ہو۔چنانچہ یہ انگریزی ترجمہ جس کے بعد دوسری زبانوں کے تراجم اِنْشَائَ اللّٰہُ جلد شائع کئے جائیں گے انہی دو اصول کے ماتحت شائع کیا جا رہا ہے۔عربی زبان سے دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے میں ایک دِقّت اِس میں کوئی شک نہیں کہ چونکہ عربی زبان ایک فلسفیانہ زبان ہے اور اِس کے تمام الفاظ معیّن حکمتوں کے ماتحت وضع کئے گئے ہیں اور اس وجہ سے کہ ان کے مادے ابتدائی جذبات و مشاہداتِ انسانی کے اظہار کے لئے بنائے گئے ہیں اس لئے استعمال میںا ن کے معنی بعض دفعہ نہایت وسیع ہی نہیں ہوجاتے بلکہ نہایت گہرے بھی ہو جاتے ہیں۔دوسری زبانوں میںا ن کا پورا ترجمہ کرنا قریباًنا ممکن ہے اور جب تک کہ تفسیری نوٹوں میںا ن معانی کی وسعت بیان نہ کی جائے صرف ترجمہ پورے مضمون کو ظاہر نہیں کر سکتا۔اس لئے جو ترجمہ ہم پیش کر رہے ہیں اِن معنوں میں مکمل ترجمہ نہیں کہلا سکتا کہ انگریزی ترجمہ نے عربی عبارت کا پورا مفہوم یا قریباً پورا مفہوم بیان کر دیا ہے بلکہ وہ ترجمہ عربی عبارت کے مختلف مفہوموں سے صرف ایک مفہوم کو ظاہر کرنے والا قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کمی کو پورا کر نے کے لئے ہم نے: (۱) مختصر نوٹ ترجمہ کے نیچے دئیے ہیں یہ نوٹ اِس وجہ سے کہ ایک مکمل تفسیر نہیں ہیں ان مختلف معانی کو جو ہمارے نزدیک کسی آیت کے ہیں مکمل طور پر تو نہیں ظاہر کرتے مگر کم سے کم ترجمہ کی محدودیت کا کسی قدر ازالہ کر دیتے ہیں۔(۲) دوسرے پڑھنے والے کوترجمہ میں بصیرت بخشنے کے لئے اور اس کے دل کو اِس بات پر مطمئن کرنے کے لئے کہ جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہ آزاد نہیں ہے بلکہ لغت اور وضع کلام کے مطابق ہے ہم نے ضروری الفاظ کے معانی ایسی کتب لغت سے جو نہ صرف مسلمانوں