دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 3

کے نزدیک بلکہ عربی بولنے والے غیرمذاہب کے لوگوں کے نزدیک بھی مسلّمہ ہیں حاشیہ میں دئیے ہیں تاکہ ایک عربی سے ناواقف آدمی بھی یہ معلوم کر سکے کہ جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہ خواہ کسی دوسرے کے نزدیک قابل قبول نہ ہو، مگر ہے عربی لغت کے عین مطابق۔اور بغیر کسی قرآنی دلیل کے جس سے معلوم ہو کہ اس جگہ اس لفظ کو ان معنوں میں قرآن کریم نے استعمال نہیں کیا یا بغیر شواہد لغت عربیہ کے اسے ردّ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔تفسیری نوٹ لکھنے کی وجوہ ترجمہ کے متعلق اس قدر تشریح کے بعد اب ہم تشریحی نوٹوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیںکہ درجنوںتفسیریں قرآن کریم کی اِس وقت تک لکھی جا چکی ہیں اور شاید ان کی موجودگی میں کسی نئی تفسیر کی ضرورت نہ سمجھی جائے لیکن ان تفسیروںکی موجودگی کے باوجود ہم نے یہ تفسیری نوٹ لکھے ہیں اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:۔(۱) جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے عربی زبان کے الفاظ وسیع معانی رکھتے ہیں لیکن ترجمہ میں صرف ایک ہی معنی کا خیال رکھا جاسکتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ نیچے نوٹ دیئے جاتے تاکہ بعض اور اہم معانی پر بھی روشنی پڑجاتی۔(۲) قرآن کریم کی تمام اہم اور مفصل تفسیریں جو اِس وقت تک لکھی گئی ہیں عربی زبان میں ہیں اور ظاہر ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی عبارت کو نہیں سمجھ سکتے وہ اس کی تفاسیر سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔(۳) جو نوٹ تفسیری رنگ میں قرآن کریم کے تراجم کے حواشی میں غیر مسلم مترجموں نے لکھے ہیں وہ: (الف) مخالفین اسلام کی کتب سے متأثر ہو کر لکھے گئے ہیں۔(ب) ان لوگوں کوعربی زبان کا یا تو بالکل علم نہ تھا یا بہت ہی کم علم تھا اس وجہ سے معتبر اور مفصل تفسیروں سے وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکے۔چنانچہ مغربی زبانوں میں جس قدر تراجم ہیں ان میں سے کسی ایک کے حواشی میں بھی قرآن کریم کی معتبر اور مفصل تفاسیر میں