دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 397

دعوت الامیر — Page 87

دعوة الامير ۸۷ نمونے کو قائم کریں۔مشاہدے کے یہ امر اس لئے خلاف ہے کہ ہمیں اس تیرہ سو سال کے عرصہ میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد گزرا ہے بیسیوں ایسے آدمی نظر آتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف تھے اور جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تجدید دین کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں اور یہ لوگ ہمیں اسلام کا اعلیٰ نمونہ نظر آتے ہیں اور اسلام کی اشاعت اور اس کے قیام میں ان لوگوں کا بڑا ہا تھ معلوم ہوتا ہے۔جیسے کہ حضرت جنید بغدادی ، حضرت سید عبد القادر جیلانی ، حضرت شہاب الدین سہر وردی ، حضرت بہاؤالدین نقش بندی، حضرت محی الدین ابن عربی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ، حضرت شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی وَغَيْرَهُمْ رَحِمَهُمُ اللهُ اَجْمَعِینَ۔پس ایسے لوگوں کے وجود اور ان کے کام کو دیکھتے ہوئے ہم کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔حق یہ ہے کہ آپ کے بعد بھی مصلح آسکتے ہیں اور آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے اور اس وقت حالات زمانہ ایک بہت بڑے مصلح کی خبر دے رہے ہیں اور چونکہ اس قسم کے مصلح ہونے کے مدعی حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ہی ہیں ، اس لئے یہ امران کے صدق دعویٰ کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔000 00000 000