دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 397

دعوت الامیر — Page 88

(M) دعوة الامير دوسری دلیل شہادت حضرت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دلیل سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ یہ زمانہ ایک مصلح کو چاہتا ہے اور چونکہ اور کوئی مدعی اسلام کی شوکت کے اظہار کا نہیں ہے اس لئے حضرت اقدس مرزا صاحب کے دعوے پر غور کرنے پر ہم مجبور ہیں لیکن چونکہ حضرت اقدس کا دعویٰ صرف ایک مصلح ہونے کا نہیں ہے بلکہ آپ کا دعوی موعود مصلح ہونے کا ہے یعنی آپ کا دعوی ہے کہ آپ مسیح موعود اور مہدی مسعود ہیں اس لئے اس دعویٰ کی تائید مزید کے لئے میں ایک اور شہادت پیش کرتا ہوں اور یہ شہادت سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور بنی نوع انسان میں سے آپ کی شہادت سے زیادہ اور کس کی شہادت قابل قبول ہو سکتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیح کی آمد ثانی کا عقیدہ اسلامی زمانے سے شروع نہیں ہوا بلکہ یہ عقیدہ امت موسویہ میں سینکڑوں سال بعثت محمدیہ سے پہلے کا رائج ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام نے اس عقیدے کے بعض ایسے امور کو منضم کر دیا ہے جن کی وجہ سے یہ عقیدہ اسلام کے اہم عقائد میں شامل ہو گیا ہے اور وہ باتیں یہ ہیں : ا مسیح موعود کے زمانے میں ایک مہدی کے آنے کی خبر دی گئی ہے جسے گو دوسری احادیث میں لَا الْمَهْدِئُ اِلَّا عِيسى (ابن ماجہ کتاب الفتن باب شرة الرمان مطبوعہ بیروت ۱۹۸۸ ء ) کہہ کر مسیح موعود کا ہی وجود قرار دیدیا گیا ہے ، مگر اس پیشگوئی کی وجہ سے مسلمانوں کو مسیح کے وجود سے ایسی قومی وابستگی ہو گئی ہے جیسے کہ ایک اپنے ہم ملت بزرگ سے ہونی چاہئے۔