دعوت الامیر — Page 86
دعوة الامير بعد بہت سے مجددین کی خبر دیں اور بعض مامورین کی آمد کی اطلاع دیں لیکن ہم اسے آپ کی شان کے خلاف سمجھیں۔اور یہ خیال عقل کے اس لئے خلاف ہے کہ عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مجدد یا مامور کو نہیں آنا تھا تو چاہئے تھا کہ مسلمانوں کی حالت کبھی بھی خراب نہ ہوتی اور وہ ہمیشہ نیکی اور تقویٰ پر قائم رہتے لیکن واقعات اس کے صریح خلاف ہیں۔عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ مسلمانوں میں خرابی تو رُونما ہو اور ان کی حالت بد سے بدتر ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح نہ آئے۔اگر اسلام سے اسی قسم کا سلوک ہونا ہے تو یہ اس بات کی علامت نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ کامل وجود ہیں بلکہ اس امر کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔اگر آئندہ مجددین اور مامورین کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے تو اس کی ظاہری علامت یہ ہونی چاہئے تھی کہ مسلمان گمراہی اور ضلالت سے بالکل محفوظ ہو جاتے اور آج بھی ان کو ہم ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ کے وقت میں لیکن جب روحانی تنزل موجود ہے تو ضروری ہے کہ روحانی ترقی کے سامان بھی موجود ہوں۔دوم یہ کہ اگر بوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ہونے کے اب آپ کے مظاہر نہیں آسکتے تو اللہ تعالیٰ جو تمام کمالات کا سرچشمہ ہے اور حی و قیوم ہے اس کے مظاہر دنیا میں کیوں آتے ہیں ، اصل بات یہ ہے کہ جو چیز آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے اسے یاد دلانے کے لئے اور اس کا اثر دلوں میں ثابت کرنے کیلئے مظاہر کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ہونے کے باوجود آپ کے بعد آپ کے مظاہر اور بروزوں کی ضرورت ہے جولوگوں کو آپ کی یاد دلائیں اور آپ کے