دعوت الامیر — Page 370
(rz۔) دعوة الامير بڑے اور چھوٹے امیر اور غریب، عالم اور جاہل اپنی اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کو ایک جگہ لا کر رکھ دیں اور ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں تا مشترکہ طور پر کفر و فساد کا مقابلہ کیا جائے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اسلام کے مفاد کو اپنے خیالات پر ترجیح دی اور زمانے کے اثرات سے متاثر ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے ہاتھ سے اپنے گلوں میں اطاعت کی رتی ڈال لی اور خوشی سے اس امر کے لیے تیار ہو گئے کہ اسلام کی بہتری کو مد نظر رکھ کر جس طرف اور جدھر بھی وہ ہاتھ اشارہ کرے، جس پر وہ جمع ہو گئے ہیں، وہ بلا عذر اور بلا حیلہ اُدھر کو چل دیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں گے اور کسی تکلیف کو خیال میں نہ لائیں گے اور یہی نہیں کہ انہوں نے منہ سے یہ اقرار کیا بلکہ عملاً اسی طرح کر کے بھی دکھایا اور اس وقت ان میں سے کئی اپنے وطنوں سے دُور ، اپنے بیوی بچوں سے دور ، روپیہ کے لئے نہیں بلکہ سخت مالی اور جانی تکلیف اُٹھا کر خلیفہ وقت کی اطاعت میں اشاعت اسلام کر رہے ہیں اور بہت ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ کب اُن کو حکم ملتا ہے کہ وہ بھی سب دنیاوی علاقوں کو توڑ کر اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لیے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں۔مِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ۔(الاحزاب: ۲۴) فَجَزَاهُمُ اللَّهُ عَنَّا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے مارے بیٹے جاتے ہیں اور گھروں سے نکالے جاتے ہیں اور اُن کو گالیاں دی جاتی ہیں اور حقیر سمجھا جاتا ہے مگر وہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں کیونکہ اُن کے دل منور ہو گئے اور ان کی باطنی آنکھیں کھل گئی ہیں اور انہوں نے وہ کچھ دیکھ لیا جو دوسروں نے نہیں دیکھا وہ ماریں کھاتے ہیں مگر دوسروں کی خیر خواہی کرتے ہیں۔ذلیل کئے جاتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے عزت چاہتے ہیں۔وہ کون ہیں جو اس وقت اسلام کی حفاظت اور اُس کی اشاعت کے لیے امریکہ میں