دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 397

دعوت الامیر — Page 369

۳۶۹ دعوة الامير ابتدائی حالت کا نتیجہ ہے اور آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جبکہ کالجوں کے طالب علم اور تعلیم جدید کے دلدادہ دین سے بکلی متنفر ہیں اور دین کو صرف سیاسی اجتماع کا ذریعہ خیال کرتے ہیں۔حضرت اقدس کے ذریعے سے ایک ایسی جماعت نو تعلیم یافتہ لوگوں کی تیار ہوئی ہے اور ہورہی ہے جس کی سجدہ گا ہیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں اور جس کے سینے گریہ و بکا کے جوش سے ہانڈی کی طرح اُبلتے ہیں اور جو اشاعتِ اسلام اور اعلائے کلمہ اسلام کو تمام سیاسی ترقیات اور حصول جاہ پر مقدم کر کے ماسویٰ کو اس پر قربان کر رہی ہے۔اس میں بہت سے دنیا کما سکتے ہیں، مگر خدا کے دین کو کمزور دیکھ کر اور علمی جہاد کی ضرورت محسوس کر کے تمام اُمنگوں پر لات مار کر دین کی خدمت میں لگ گئے ہیں اور قلیل کو کثیر پر ترجیح دے رہے ہیں اور فاقہ کشی کو سیر شکمی سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔اُن کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام ہے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت ہے اور ان کے اعمال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عظمت کو ظاہر کر رہے ہیں اور اُن کے چہروں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عشق ٹپک رہا ہے وہ اسی دنیا میں بستے ہیں اور اُن کے کان آزادی کی آوازوں سے نا آشنا نہیں، اُن کے دماغ آزادی کے خیالات سے ناواقف نہیں ، ان کی آنکھیں آزادی کی جدو جہد کے دیکھنے سے قاصر نہیں، انہوں نے بھی وہ سب کچھ پڑھا اور سنا ہے جو دوسرے لوگ پڑھتے اور سنتے ہیں ، مگر بائیں ہمہ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ اسلام اس وقت اس قدر آزادی کا محتاج نہیں جس قدر کہ غلامی کا۔دجالی فتنے نے جو نقصان اسلام کو پہنچایا ہے۔وہ اس وسیع انتظام کے ذریعہ پہنچایا ہے جو اُس نے اسلام کی بیخ کنی کے لیے اختیار کیا تھا اور یہ کہ اسلام کی ترقی اس وقت صرف ایک بات چاہتی ہے کہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو کر ایک جھنڈے کے نیچے آجائیں۔