دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 397

دعوت الامیر — Page 371

(rzi) دعوة الامير تنہا لڑ رہا ہے اور گو ایک وسیع سمندر میں ایک بلبلے کی طرح پڑا ہوا ہے مگر اس کا دل نہیں گھبراتا۔وہ ایک مردہ تھا جسے مسیح محمدی نے اپنے ہاتھ سے زندہ کیا ہے اور وہ اس لیے تن تنہا امریکہ کو اسلام کے حلقہ غلامی میں لانے کے لیے کوشاں ہے کہ وہ جانتا ہے کہ ایک زندہ کروڑوں مردوں پر بھاری ہے۔وہ کون ہیں جو انگلستان میں اشاعتِ اسلام کر رہے ہیں؟ وہ یہی مسیح محمدی کے زندہ کئے ہوئے لوگ ہیں اور گوجسمانی طور پر انگلستان نے ہندوستان کو فتح کر لیا ہے مگر وہ یہ جانتے ہیں کہ انگلستان کی رُوح مرچکی ہے وہ خدا سے دُور جا پڑا ہے وہ اُس زندگی کے پانی کی بوتلیں لے کر جس سے مسیح نے ان کو زندہ کیا ہے دوسروں کے زندہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔انگلستان کا اقبال ، اس کی دولت، اس کی حکومت ان کو ڈراتی نہیں کیونکہ اُن کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں اور انگلستان مُردہ۔پھر زندہ مردے سے کیا ڈرے اور اس سے کیوں گھبرائے۔مغربی افریقہ کا ساحل جہاں مسیحیت نے اپنے پاؤں پھیلانے شروع کئے تھے اور لاکھوں آدمیوں کو مسیحی بنالیا تھا اور ایک آدمی کی پرستش کے لیے لوگ جمع کئے جارہے تھے وہاں کون واحد خدا کے نام کو بلند کرنے کے لیے گیا اور شرک کی توپ کے آگے سینہ سپر ہوا ؟ وہی مسیح موعود کے نفخ سے زندہ ہونے والے لوگ جو اس وقت اسلام کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے جب لوگ اسلام کی موت کا یقین کر بیٹھے تھے اور اس کے اثر کو مٹتا ہوا دیکھنے لگے تھے۔کس نے ماریشس کی طرف توجہ کی اور اس ایک طرف پڑے ہوئے جزیرے کے باشندوں کو زندگی بخشنے کا کام اپنے ذمہ لیا، کس نے لنکا کو جو نہایت قدیم تاریخی روایات