دعوت الامیر — Page 368
(YA) دعوة الامير دل سے قائل نہ تھا ہاں سیاستا آپ کے ساتھ تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موسیٰ“ کی قوم کے ایک حصہ نے خروج مصر کے بعد اُن سے کہا یمُوْسَی لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ (البقرہ: ۵۶) اے موسیٰ ! ہم تیری بات ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔پس تم کو عذاب الہی نے پکڑ لیا۔در آں حالیکہ تم دیکھ رہے تھے اسی طرح قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے اور انجیلوں اور تاریخوں سے بھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے اور ان میں سے جو خلص تھے اور جنہوں نے حقیقی زندگی پائی تھی وہ تو بہت ہی کم تھے لیکن حضرت اقدس علیہ السلام چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض روحانیہ کے جاری کرنے اور آپ کی برکات کو دنیا میں پھیلانے کے لیے آئے تھے اور مسیح محمدی کا مقام بلند رکھتے تھے آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے مُردے زندہ کئے اور ایسے مردے زندہ کئے کہ اگر اُن پر چشمہ محمدیہ کا پانی نہ چھڑ کا جاتا تو اُن کے جینے کی کوئی اُمید ہی نہیں ہوسکتی تھی۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس زمانے میں جبکہ چاروں طرف بدعات اور رسوم اور دنیا طلبی اور فسق اور دین سے نفرت اور کلام الہی سے بے پروائی اور شرائع کی ہتک اور اعمالِ صالحہ سے غناء اور دُعا سے بے توجہی اور غیرت دینی کی کمی نظر آرہی ہے حضرت اقدس نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول اور اس کے ملائکہ اور دُعا اور معجزات اور کلام الہی اور حشر اور نشر اور جنت اور دوزخ پر پورا یقین رکھتی ہے اور شریعتِ اسلام کی حتی الوسع پابند ہے اور اس جماعت میں تلاش سے ہی کوئی آدمی ایسا ملے گا جو نمازوں کی ادائیگی میں تغافل کرتا ہو اور یہ جو کچھ کمی ہے یہ بھی