دعوت الامیر — Page 367
۳۶۷ دعوة الامير ظاہر کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کسی نبی کی تاریخ اور اس کے حالات سے اس وضاحت کے ساتھ اس نشان کے ظہور کا پتہ نہیں چلتا، واللهُ أَعْلَمُ بِالْصَّوَابِ۔حضرت اقدس اس وقت دنیا میں تشریف لائے تھے جس وقت نہ صرف روحانی موت ہی دنیا پر طاری تھی بلکہ مرے ہوئے لوگوں کو اس قدر عرصہ ہو گیا تھا کہ جسم گل سڑ گئے تھے اور افتراق شروع ہو گیا تھا، یہ ایسی سخت موت تھی کہ اس موت کی حسرت ناک حالت سے تمام انبیاء علیہم السلام لوگوں کو ڈراتے آئے ہیں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيَّ بَعْدَ نُوْحٍ إِلَّا قَدْ انْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي أَنْذِرُ كُمُوْهُ (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی الدجال) یعنی حضرت نوح کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے دجال کے فتنہ سے اپنی قوم کو نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں۔پس دجالی فتنے سے مارے ہوئے لوگوں سے زیادہ زندگی سے دور دوسرے مُردے نہیں ہو سکتے اور ایسے اُمیدوں کی حد سے گزرے ہوئے مُردوں کا زندہ کر نادر حقیقت ایک بہت بڑا مشکل کام تھا مگر آپ نے یہ کام کیا اور ہزاروں لاکھوں مُردے زندہ کر کے دکھا دیئے اور ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کی نظیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت کو مستی کر کے دوسری جماعتوں میں نہیں ملتی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تعلقات اپنی قوم کے ساتھ سیاسی بھی تھے۔اس لیے ان کی ساری قوم اُن پر ایمان لا کر ہی ان کے ساتھ نہ تھی، بلکہ بہت سے لوگ سیاسی حالات کو مد نظر رکھ کر ان کے ساتھ چلنے پر مجبور تھے جو لوگ اُن پر ایمان لاکر ان کے ساتھ ہوئے اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَمَا آمَنَ لِمُؤْسَى الَّا ذُرِّيَّةً مِنْ قَوْمِهِ (یونس : ۸۴) یعنی موسی کی اطاعت نہیں کی مگر اُن کی قوم کے کچھ نوجوانوں نے۔یہ تو قیام مصر کا حال تھا، مصر سے نکل کر بھی اکثر حصہ آپ کی قوم کا آپ کی صداقت کا