دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 397

دعوت الامیر — Page 353

(ror) دعوة الامير آ جائے تو وہ سو کام چھوڑ کر اس سے ملتا ہے۔اپنے دوستوں اور پیاروں کی ملاقات کا موقع ملے تو شاداں و فرحاں ہو جاتا ہے۔حکام کے حضور شرف باریابی حاصل ہو تو خوشی سے جامے میں پھو لانہیں سما تا لیکن لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعوے کرتے ہیں مگر نماز کے نزدیک نہیں جاتے یا نماز پڑھتے ہیں تو اس طرح کہ کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی یا اگر با قاعدہ بھی پڑھی تو ایسی جلدی جلدی پڑھتے ہیں کہ معلوم نہیں ہوتا کہ سجدہ سے انہوں نے سرکب اُٹھا یا اور پھر کب واپس رکھ دیا۔جس طرح مرغ چونچیں مار کر دانہ اُٹھا تا ہے یہ سجدہ کر لیتے ہیں ، نہ خشوع ہوتا ہے نہ خضوع ، اسی طرح اللہ تعالیٰ روزے کا بدلہ اپنے آپ کو قرار دیتا ہے مگر لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑنے کے لیے نہیں جاتے اور اُس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کی محبت ظاہر کرتے ہیں لیکن لوگوں کے حقوق دباتے ہیں۔جھوٹ بولتے ہیں، بہتان باندھتے ہیں ،غیبتیں کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے عشق بیان کرتے ہیں لیکن قرآن کریم کا مطالعہ اور اُس پر غور کرنے کی توفیق اُن کو نہیں ملتی۔کیا جس طرح آجکل لوگ قرآن کریم سے سلوک کرتے ہیں اسی طرح اپنے پیاروں کے خطوط سے بھی کیا کرتے ہیں؟ کیا ان خطوں کو لپیٹ کر رکھ چھوڑتے ہیں اور ان کو پڑھ کر ان کا مطلب سمجھنے کی کوششیں نہیں کرتے۔غرض محبت کا دعوئی اور شے ہے اور حقیقی محبت اور شے محبت کبھی عمل اور قربانی سے جدا نہیں ہوتی اور اس قسم کی محبت اور اس قسم کا پیار ہمیں اس زمانے میں سوائے حضرت اقدس علیہ السلام اور آپ کے متبعین کے اور کسی شخص میں نظر نہیں آتا۔آپ کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ جب سے آپ نے ہوش سنبھالا اُسی وقت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں سرشار تھے اور ان کی محبت آپ کے رگ