دعوت الامیر — Page 354
۳۵۴ دعوة الامير وریشہ میں سمائی ہوئی تھی۔بچپن ہی سے آپ احکام شرعیہ کے پابند تھے اور گوشہ نشینی کو پسند کرتے تھے۔جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو آپ کے والد صاحب نے بہت چاہا کہ آپ کو کسی جگہ ملازم کرا دیں لیکن آپ نے اس امر کو پسند نہ کیا اور بار بار کے اصرار پر بھی انکار کرتے رہے اور خدا کی یاد کو دنیا کے کاموں پر مقدم کر لیا۔آپ ایک نہایت معزز خاندان کے فرد تھے۔اگر آپ چاہتے تو آپ کو معزز عہدہ مل سکتا تھا۔جیسا کہ آپ کے بڑے بھائی کو ایک معتز زعہدہ حاصل تھا، لیکن آپ نے اس سے پہلو ہی بچایا۔یہ نہیں تھا کہ آپ سست تھے اور شستی کی وجہ سے آپ نے ایسا کیا کیونکہ آپ کی بعد کی زندگی نے ثابت کر دیا کہ آپ جیسا محنتی شخص دنیا کے پردے پر ملنا مشکل ہے۔ایک قادیان کے پاس رہنے والا سکھ جس کے باپ دادوں کے تعلقات آپ کے والد صاحب کے ساتھ تھے سنایا کرتا ہے اور باوجود مذہبی اختلاف ہونے کے اب تک اس واقعہ کوٹنا تے وقت اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمیں آپ کے والد صاحب نے آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ جاؤ اُن سے کہو کہ وہ میرے ساتھ حکام کے پاس چلیں، میں اُن کو تحصیلداری کا عہدہ دلانے کی کوشش کروں گا۔وہ کہتا ہے کہ جب ہم آپ کے پاس گئے تو آپ ایک کوٹھڑی میں علیحدہ بیٹھے ہوئے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ کے والد صاحب آپ کو معز ز عہدہ دلانے کے لیے کہتے ہیں۔آپ کیوں اُن کے ساتھ نہیں جاتے تو آپ نے کہا کہ میری طرف سے اُن کی خدمت میں باادب عرض کر دو کہ میں نے جس کی نوکری کرنی تھی کر لی ، آب وہ مجھے معاف ہی کر دیں تو اچھا ہے۔اُن دنوں آپ کا شغل یہ ہوتا تھا کہ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے رہتے یا احادیث کی کتب دیکھتے یا مثنوی رومی کا مطالعہ کرتے اور یتیموں اور مسکینوں کا ایک گروہ کسی کسی وقت