دعوت الامیر — Page 352
(For) ۳۵۲ دعوة الامير بیان سے بڑھ کر کامل محبت کی مکمل تشریح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے یعنی قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتَكُمْ وَأَمْوَالَ إِقْتَرَفْتَمُوْهَا وَتِجَارَةً تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوْا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبہ: ۲۴۰) کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں یا تمہارے خاوند اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے بگڑ جانے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کام کرنے سے تمہیں زیادہ پیارے ہیں تو تم کو اللہ تعالیٰ سے کوئی محبت نہیں تب تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو کبھی اپنا رستہ نہیں دیکھا تا یعنی کامل محبت کی علامت یہ ہے کہ انسان اس کی خاطر ہر ایک چیز کو قربان کر دے۔اگر اس بات کے لیے وہ تیار نہیں تو منہ کی باتیں اس کے لیے کچھ بھی مفید نہیں۔یوں تو ہر شخص کہہ دیتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے اور اُس کے رسول سے محبت ہے بلکہ مسلمان کہلانے والا کوئی شخص بھی نہ ہوگا جو یہ کہتا ہو کہ مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت نہیں ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس اقرار کا اثر اس کے اعمال پر ، اس کے جوارح پر اور اُس کے اقوال پر کیا پڑتا ہے۔وہی لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنے آپ کو سر شار بتاتے ہیں اور آپ کی تعریف میں نظمیں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں بلکہ بعض تو خود نعتیں کہتے بھی ہیں آپ کے احکام کی فرمانبرداری کی طرف اُن کو کچھ بھی توجہ نہیں ہوتی۔وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اُس سے ملنے کے لئے کچھ بھی کوشش نہیں کرتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی کا عزیز