دعوت الامیر — Page 351
۳۵۱ دعوة الامير گیارھویں دلیل آپ کا عشق اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چند پیشگوئیوں کے بیان کرنے کے بعد اب میں آپ کے دعوے کی صداقت کی گیارھویں دلیل بیان کرتا ہوں اور وہ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوْا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت :۷۰) یعنی جو لوگ ہمارے راستے میں کچی کوشش کرتے ہیں ہم اُن کو اپنے راستے رکھا دیتے ہیں اور اُن پر اُن کو چلاتے ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ ( آل عمران: ۳۲) کہہ دے کہ اگر تم کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ان دونوں آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا سچا عشق اور اُس کی سچی محبت اور اس کے رسول کے عشق اور اس کی محبت کا ہمیشہ یہ نتیجہ ہوا کرتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے جاملتا ہے اور اس کا محبوب ہو جا تا ہے پس اس اُمت کے افراد کی صداقت کا یہ بھی ایک معیار ہے کہ اُن کے دل عشق الہی سے پُر ہوں اور اتباع رسول اُن کا شیوہ ہو اور اس معیار کے مطابق بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت روز روشن کی طرح ثابت ہے۔محبت کا مضمون ایک ایسا مضمون ہے کہ مجھے اس پر کچھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہر ملک کے شاعر اس کی کیفیات کو غیر معلوم زمانے سے بیان کرتے چلے آئے اور تمام مذاہب اس پر ایمان اور وصول الی اللہ کی بنیا درکھتے چلے آئے ہیں، مگر سب شاعروں کے