دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 397

دعوت الامیر — Page 350

(ro۔) دعوة الامير جو اللہ تعالیٰ نے کہا تھاوہ شخص جو تن تنہا ایک تنگ صحن میں ٹہل ٹہل کر اپنے الہامات لکھ رہا تھا اور تمام دنیا میں اپنی قبولیت کی خبریں دے رہا تھا، حالانکہ اس وقت اُسے اس کے علاقے کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے باوجود سب روکوں کے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے اُٹھا اور ایک بادل کی طرح گر جا اور لوگوں کے دیکھتے دیکھتے حاسدوں اور دشمنوں کے کلیجوں کو چھلنی کرتا ہوا تمام آسمان پر چھا گیا ہندوستان میں وہ برسا، افغانستان میں وہ برسا،عرب میں وہ برسا، مصر میں وہ برسا سیلون میں وہ برسا، بخارا میں وہ برسا، مشرقی افریقہ میں وہ برسا، جزیرہ ماریشس میں وہ برسا، جنوبی افریقہ میں وہ برسا، مغربی افریقہ کے ممالک میں وہ برسا ، نائیجیریا، گولڈ کوسٹ سیرالیون میں وہ برسا، آسٹریلیا میں وہ برسا، انگلستان اور جرمن اور روس کے علاقوں کو اُس نے سیراب کیا اور امریکہ میں جا کر اُس نے آب پاشی کی۔آج دنیا کا کوئی بڑاعظم نہیں جس میں مسیح موعود کی جماعت نہیں اور کوئی مذہب نہیں جس میں سے اُس نے اپنا حصہ وصول نہیں کیا، مسیحی ، ہندو، بدھ، پاری ، سکھ ، یہودی سب قوموں میں سے اس کے ماننے والے موجود ہیں اور یورپین ،امریکن ، افریقن اور ایشیا کے باشندے اُس پر ایمان لائے ہیں اگر جو کچھ اُس نے قبل از وقت بتادیا تھا اللہ تعالیٰ کا کلام نہ تھا تو وہ کس طرح پورا ہو گیا؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ جو اس سے پہلے اسلام کو کھا رہے تھے مسیح موعود کے ذریعے سے اب اسلام اُن کو کھا رہا ہے کئی سو آدمی اس وقت تک انگلستان میں اور اسی طرح امریکہ میں اسلام لا چکا ہے اور روس اور جرمن اور اٹلی کے بعض افراد نے بھی اس سلسلے کو قبول کیا ہے۔وہی اسلام جو دوسرے فرقوں کے ہاتھ سے شکست پر شکست کھا رہا تھا اب مسیح موعود کی دعاؤں سے دشمن کو ہر میدان میں نیچا دکھا رہا ہے اور اسلام کی جماعت کو بڑھا رہا ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ