دعوت الامیر — Page 284
۲۸۴ دعوة الامير تیسری پیشگوئی آتھم کے متعلق پیشگوئی جس سے دنیا کے مسیحیوں پر عموماً اور ہندوستان کے مسیحیوں پر خصوصا لجت پوری ہوئی پر تیسری مثال پیشگوئیوں کی میں اُن امور غیبیہ میں سے بیان کرتا ہوں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحی معاندین اسلام کے خلاف شائع کیں تا کہ مسیحی دنیا پر حجت قائم ہو۔اے بادشاہ ! میں نہیں جانتا کہ آپ کو ان حالات سے واقفیت ہے یا نہیں کہ مسیحی مناد اور مبلغ مسلمانوں کے غلط عقائد اور ان کے بیان کردہ غلط روایات سے فائدہ اٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت سے سخت حملے کرنے کے عادی ہیں مگر اُن کے حملوں کی سختی آج سے تیس چالیس سال پہلے جس حد کو پہنچی ہوئی تھی اس کی مثال آج کل نہیں مل سکتی۔ان لوگوں کی حد سے بڑھی ہوئی زبان درازی کو دیکھ کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت زور سے ان کا مقابلہ کرنا شروع کیا اور آخر آپ کے حملوں کی تاب نہ لا کر مسیحی حملہ آور اپنے مقام کو چھوڑ گئے اور اب اس طرز تحریر کا نام نہیں لیتے جو اس وقت انہوں نے اختیار کر رکھی تھی ان لوگوں میں سے جو سخت گندہ دہانی سے کام لیتے تھے ایک صاحب ڈپٹی عبد اللہ آتھم بھی تھے ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں نے حضرت اقدس علیہ السلام اور ان کے درمیان امرتسر میں مباحثہ کر وا دیا۔مباحثہ میں عبد اللہ آتھم صاحب بہت کچھ ہاتھ پیر مارتے رہے مگر اُن سے کچھ نہ بنا اور اپنوں پرایوں میں اُن کو بہت ذلّت نصیب ہوئی۔چونکہ دوران مباحثہ میں معجزات کا بھی ذکر آیا تھا اس لئے اللہ