دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 397

دعوت الامیر — Page 285

(FAQ) دعوة الامير تعالیٰ نے نہ چاہا کہ یہ مباحثہ بغیر کسی اعجاز کے خالی چلا جائے اور آپ کو الہاما بتا یا گیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہادیہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔( جنگ مقدس صفحہ ۲۱۰ ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۲) جب آخری پر چہ آپ کی طرف سے لکھا گیا تو اس میں آپ نے یہ پیشگوئی بھی شامل کر دی اور لکھا کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہو گئی تو اس سے ثابت ہوگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کو تم نے اپنی کتاب ” اندرونہ بائیبل میں نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ دقبال لکھا ہے خدا کے فرستادہ اور رسول تھے۔اس پیشگوئی میں دو باتیں بتائی گئی تھیں، اول یہ کہ مسیح علیہ السلام کو خدا بنانے والا فریق ڈپٹی آتھم پندرہ ماہ کے اندرا اپنی ضد اور تعصب کی وجہ سے اور بدگوئی کے سبب سے ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔دوم یہ کہ اگر یہ فریق حق کی طرف رجوع کرے اور اپنی بات پر پشیمان ہو اور اپنی غلطی کو سمجھ جائے تو اس صورت میں وہ اس عذاب سے بچایا جائے گا۔اگر دوسرا فریق حق کی طرف رجوع نہ کرتا اور اپنی ضد پر قائم رہتا اور ہلاک نہ ہوجاتا تو پیشگوئی غلط ہو جاتی اور اگر وہ رجوع کرتا اور پندرہ ماہ کے عرصہ میں مرجاتا تو بھی پیشگوئی جھوٹی ہو جاتی کیونکہ یہ پیشگوئی بتا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آتھم کی عمر پندرہ ماہ سے زائد ہے اسی صورت میں وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں مرے گا جبکہ وہ ضد پر قائم رہے۔ایک ادنیٰ غور سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس پیشگوئی کی دونوں صورتوں میں سے دوسری صورت کے دونوں پہلو پہلی صورت کے دونوں پہلوؤں سے زیادہ شاندار ہیں کیونکہ پہلی صورت کے دو