دعوت الامیر — Page 278
دعوة الامير اس نے ہلاکت کا دروازہ کھول دیا جو ہر طرح کے حفظانِ صحت کے سامان مہیا رکھتے تھے اور وہ لوگ جنہوں نے شہید سید کے سنگسار کرنے میں خاص حصہ لیا تھا ، خاص طور پر پکڑے گئے اور بعض خود مبتلا ہوئے اور بعض کے نہایت قریبی رشتہ دار ہلاک ہوئے۔غرض ایک لمبے عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ کا کلام لفظاً لفظاً پورا ہوا اور اس نے اپنے قهری نشانوں سے اپنے مامور کی شان کو ظاہر کیا اور صاحب بصیرت کے لیے ایمان لانے کا راستہ کھول دیا۔کون کہہ سکتا ہے کہ اس قسم کی پیشگوئی کرنا کسی انسان کا کام ہے۔کونسا انسان اس حالت میں جبکہ اس پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لا یا یہ خبر شائع کر سکتا تھا کہ اس پر کسی زمانے میں کثرت سے لوگ ایمان لے آئیں گے حتی کہ اس کا سلسلہ اس ملک سے نکل کر باہر کے ممالک میں پھیل جائے گا اور پھر وہاں اس کے دومرید صرف اس پر ایمان لانے کی وجہ سے نہ کہ کسی اور جرم کے سبب سے شہید کئے جاویں گے اور جب ان دونوں کی شہادت ہو چکے گی تو اللہ تعالیٰ اُس علاقے پر ایک ہلاکت نازل کرے گا جو ان کیلئے قیامت کا نمونہ ہوگی اور بہت سے لوگ اس سے ہلاک ہوں گے۔اگر بندہ بھی اس قسم کی خبریں دے سکتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے کلام اور بندوں کے کلام میں فرق کیا رہا؟ میں اس جگہ اس شبہ کا ازالہ کر دینا پسند کرتا ہوں کہ الہام میں لفظ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان ہے یعنی اس سرزمین کے سب لوگ ہلاک ہو جا ئیں گے لیکن سب لوگ ہلاک نہ ہوئے کچھ لوگ ہلاک ہوئے اور بہت سے بچ گئے۔اصل بات یہ ہے کہ عربی زبان کے محاورے میں کل کا لفظ کبھی عمومیت کے لیے اور کبھی بعض کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ اس لفظ کے معنی جمع کے ہی ہوں، چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ مکھی کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ (النحل : ۷۰) حالانکہ ہرکھی سارے پھلوں کو