دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 397

دعوت الامیر — Page 277

۲۷۷ دعوة الامير صاحب کو شہید کرادیا گیا اور اس طرح الہام کا پہلا حصہ مکمل طور پر پورا ہوگیا کہ شاتَانِ تُذْبَحَانِ۔اس جماعت کے دو نہایت و فادار اور اطاعت گزار آدمی با وجود ہر طرح بادشاہ وقت کے فرمانبردار ہونے کے ذبح کر دیے جائیں گے اور وہ حصہ پورا ہونا باقی رہ گیا کہ اس واقعہ کے بعد اُس سرزمین پر عام تباہی آئے گی اور اس کے پورا ہونے میں بھی دیر نہیں لگی۔ابھی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت پر ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا کہ کابل میں سخت ہیضہ پھوٹا اور اس کثرت سے لوگ ہلاک ہوئے کہ بڑے اور چھوٹے اس مصیبت نا گہانی سے گھبرا گئے اور لوگوں کے دل خوف زدہ ہو گئے اور عام طور پر لوگوں نے یہ محسوس کر لیا کہ یہ بلا اس سید مظلوم کی وجہ سے ہم پر پڑی ہے جیسا کہ ایک بے تعلق شخص مسٹر اے فرنک مارٹن(Frank, A۔Martin) کی جو کئی سال تک افغانستان کی حکومت میں انجینئر انچیف کے عہدے پر ممتاز رہ چکے ہیں، کی اُس شہادت سے ثابت ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب مسمی بہ انڈردی ابسولیٹ امیر Under The absolute) (1907 Amir published in میں بیان کی ہے۔یہ ہیضہ بالکل غیر مترقبہ تھا کیونکہ افغانستان میں بیضے کے پچھلے دوروں پر نظر کرتے ہوئے ابھی اور چار سال تک اس قسم کی وباء نہیں پھوٹ سکتی تھی۔پس یہ ہیضہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا جس کی خبر وہ اپنے مامور کوقریباً اٹھائیس سال پہلے دے چکا تھا اور عجیب بات یہ ہے کہ اس پیشگوئی کی مزید تقویت کے لیے اس نے صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کو بھی اس امر کی اطلاع دے دی تھی، چنانچہ انہوں نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ میں اپنی شہادت کے بعد ایک قیامت کو آتے ہوئے دیکھتا ہوں، اس ہیضے کا اثر کابل کے ہر گھرانے پر پڑا۔جس طرح عوام الناس اس حملے سے محفوظ نہ رہے۔امراء بھی محفوظ نہ رہے اور ان گھرانوں میں بھی