دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 397

دعوت الامیر — Page 279

(129) دعوة الامير نہیں کھاتی۔پس اس کے معنے یہی ہیں کہ پھلوں میں سے بعض کو کھا، اسی طرح ملکہ سبا کے متعلق فرماتا ہے وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ (النمل: ۲۴) اس کو ہر ایک چیز دی گئی تھی۔حالانکہ وہ دنیا کے ایک نہایت مختصر علاقہ کی بادشاہ تھی۔پس اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ دنیا کی نعمتوں میں سے کچھ اس کو دی تھیں۔ہاں یہ ضروری ہوتا ہے کہ جب محل کا لفظ بولا جائے تو وہ اپنے اندر ایک عمومیت رکھتا ہو اور کل افراد میں سے ایک نمایاں حصہ اس میں آجائے اور یہ دونوں باتیں وبائے ہیضہ میں جو شہید مرحوم کی شہادت کے بعد کابل میں پڑی پائی جاتی تھیں۔ہر ایک جان اس کے خوف سے لرزاں تھی اور ایک بڑی تعداد آدمیوں کی اس کے ذریعے ہلاک ہوئی ،حتی کہ ایک انگریز مصنف (Frank۔A۔Martin ملاحظه ہو 1907 Under the absolute Amir Published in) جو اس الہام کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھا اُسے بھی اپنی کتاب میں اس ہیضے کا خاص طور پر نمایاں کر کے ذکر کرنا پڑا۔دوسرا اعتراض یہ کیا جاسکتا ہے کہ الہام میں لفظ تُذْبَحَانِ کا ہے مگر ان دونوں مقتولوں میں ایک تو گلا گھونٹ کر مارا گیا اور دوسرے صاحب سنگسار کئے گئے۔پس یہ بات درست نہ نکلی کہ دو آدمی ذبح کئے گئے یہ اعتراض بھی قلتِ تدبر اور قلت معرفت کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے۔کیونکہ ذبح کے معنے عربی زبان میں ہلاک کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔خواہ کسی طرح ہلاک کیا جائے اور قرآن کریم میں متعدد جگہ پر یہ محاورہ استعمال ہوا ہے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کے واقعہ میں آتا ہے کہ يُذَبِّحُوْنَ أَبْنَاءَ كُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَاءَكُمْ (البقره: (۵۰) تمہارے لڑکوں کو وہ ذبح کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے۔حالانکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ فرعونی لوگ لڑکوں کو ذبح نہیں کرتے تھے بلکہ پہلے تو