دعوت الامیر — Page 264
۲۶۴ دعوة الامير کلام اس کے مخالف ہے وہ اس کا کلام ہی نہیں اور جو اُس کا کلام ہے وہ اس کے فعل کے مخالف نہیں ہوسکتا۔ان علوم کے بیان کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت صرف آپ ہی کی جماعت ہے جو ایک طرف تو علوم جدیدہ کی تحصیل میں پوری طرح لگی ہوئی ہے اور دوسری طرف سیاسی ضرورت یا نسلی تعصب کی وجہ سے نہیں بلکہ سچے طور پر تقلیدی طور پر نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت اسلام کے بیان کردہ تمام عقائد پر یقین رکھتی ہے اور ان کی صداقت کو ثابت کر سکتی ہے۔باقی جس قدر جماعتیں ہیں، وہ ان علوم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے یا تو علوم جدیدہ کی تکذیب کر کے اور اُن کے حصول کو کفر قرار دیکر اپنے خیالی ایمان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں یا پھر اُن کے اثر سے متاثر ہو کر دین کو عملاً چھوڑ بیٹھی ہیں یا ظاہر میں لوگوں کے خوف سے اظہار اسلام کرتی ہیں مگر دل میں سو قسم کے شکوک اور شبہات اسلامی تعلیم کے متعلق رکھتی ہیں۔تیسرا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ انسانی عقل کوئی شبہ یا وسوسه قرآن کریم کی تعلیم کے متعلق پیدا کرے، اُس کا جواب قرآن کریم کے اندر موجود ہے اور آپ نے اس مضمون کو اس وسعت سے بیان کیا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ہر قسم کے وساوس اور شکوک کا جواب آپ نے قرآن کریم سے دیا ہے اور اس طرح نہیں کہ کہہ دیا ہو کہ قرآن کریم اس خیال کو رد کرتا ہے اس لیے یہ خیال مردود ہے بلکہ ایسے دلائل کے ذریعہ سے جو گو بیان تو قرآن کریم نے کئے ہیں مگر ہیں عقلی اور علمی جن کو ماننے پر ہر مذہب وملت کے لوگ مجبور ہیں۔چوتھا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ اس سے پہلے لوگ عام