دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 397

دعوت الامیر — Page 265

۲۶۵ دعوة الامير طور پر یہ تو بیان کرتے تھے کہ قرآن کریم سب کتب سے افضل ہے مگر یہ کسی نے ثابت نہ کیا تھا کہ کتب مقدسہ یا دوسری تصانیف پر اُسے کیا فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ بے نظیر ہے اور بے مثل ہے۔اس مضمون کو آپ نے قرآن کریم ہی کے بیان کردہ دلائل سے اس وسعت سے ثابت کیا ہے کہ بے اختیار انسان کا دل قرآن کریم پر قربان ہونے کو چاہتا ہے اور مُحَمَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمَ پر فدا ہونے کو چاہتا ہے جن کے ذریعے سے یہ تعلیم ہمیں ملی۔پانچواں اصولی علم جو آپ کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ قرآن ذوالمعانی ہے۔اس کے کئی بطون ہیں۔اس کو جس عقل اور جس فہم کے آدمی پڑھیں اس میں اُن کی سمجھ اور ان کی استعداد کے مطابق سچی تعلیم موجود ہے، گو یا الفاظ ایک ہیں لیکن مطالب متعدد ہیں اگر معمولی عقل کا آدمی پڑھے تو وہ اس میں ایسی موٹی موٹی تعلیم دیکھے گا جس کا ماننا اور سمجھنا اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہ ہوگا اور اگر متوسط درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں مضمون پائے گا اور اگر اعلیٰ درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں علم پائے گا۔غرض یہ نہ ہو گا کہ کم علم لوگ اس کتاب کا سمجھنا اپنی عقل سے بالا پائیں یا اعلیٰ درجہ کے علم کے لوگ اس کو ایک سادہ کتاب پائیں اور اس میں اپنی دلچسپی اور علمی ترقی کا سامان نہ دیکھیں۔چھٹا اصولی علم آپ کو قرآن کریم کے متعلق یہ دیا گیا کہ قرآن کریم علاوہ رُوحانی علوم کے اُن ضروری علوم مادیہ کو بھی بیان کرتا ہے جن کا معلوم ہونا انسان کے لیے ضروری اور ان علوم کا انکشاف زمانے کی ترقی کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے تا کہ ہر زمانے کے لوگوں کا ایمان تازہ ہو۔