دعوت الامیر — Page 263
(yr) دعوة الامير دعوی بلا دلیل بیان نہیں کیا جاتا۔اس اصل کے قائم کرنے سے اس کے علوم کے انکشاف کے لئے ایک نیا دروازہ کھل گیا اور جب اس کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں باتیں جو اس سے پہلے بطور دعوے کے سمجھی جاتی تھیں اور ان کی دلیل یہ سمجھ لی گئی تھی کہ خدا نے کہا ہے اس لیے مان لو، وہ سب اپنے دلائل اپنے ساتھ رکھتی تھیں۔اس دریافت کا یہ نتیجہ ہوا کہ فطرت انسانی نے جو علوم کی ترقی کی وجہ سے اس زبردستی کی حکومت کا جُوا اُتار پھینکنے کے لیے تیار ہو رہی تھی عقلی طور پر تسلی پا کر نہایت جوش اور خروش سے قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول سے لپٹ گئی اور قرآن کریم کی باتوں کے ماننے میں بجائے ایک بوجھ محسوس ہونے کے فرحت حاصل ہونے لگی اور محسوس ہونے لگا که قرآن کریم ایک طوق کے طور پر ہماری گردنوں میں نہیں ڈالا گیا، بلکہ ایک واقف کار راہنما کی مانند ہمارے ہمراہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے وہ زبر دست ثبوت آپ نے قرآن کریم سے پیش کئے جن کو موجودہ سائنس رڈ نہیں کر سکتی اور جن کے اثر سے تعلیم یافتہ دہریوں کی ایک جماعت واپس خدا پرستی کی طرف آ رہی ہے۔اسی طرح آپ نے ملائکہ پر جو اعتراض ہوتے تھے ان کے جواب قرآن کریم سے دیئے۔نبوت کی ضرورت اور نبیوں کی صداقت کے دلائل قرآن کریم سے بیان کئے۔قیامت کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کیا۔اعمال صالحہ کی ضرورت اور ان کے فوائد اور نواہی کے خطرناک نتائج اور ان سے بچنے کی ضرورت یہ سب مسائل اور ان کے سوا باقی اور بہت سے مسائل کے متعلق آپ نے قرآن کریم ہی کے ذکر کردہ عقلی اور نقلی دلائل بیان کر کے ثابت کردیا کہ قرآن کریم پر علوم جدیدہ کی دریافت کا کوئی خراب اثر نہیں پڑسکتا کیونکہ آپ نے بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فعل اور اس کا قول مخالف ہوں ، جو