دعوت الامیر — Page 260
(ry۔) دعوة الامير گے اور دنیا کی حکومتوں پر قابض ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ اس زمانے میں کچھ وحشی اقوام ہلاک کر دی جائیں گی کہ ان کا نام ہی باقی رہ جائیگا اور یہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کہتے ہیں حُشِرَ الْوَخوش اَىٰ أَهْلِكَتْ ایسا ہی اس زمانے میں ہوا ہے کہ آسٹریلیا اور امریکہ کے اصلی باشندے کہ اُن کو کہتے بھی وحشی ہی ہیں آہستہ آہستہ اس طرح ہلاک کر دئے گئے ہیں کہ اب ان اقوام کا ان میں نشان تک نہیں ملتا۔پھر فرمایا کہ (۶) وَإِذَا الْبِحَارُ سَجَرَتْ جب دریاؤں کو پھاڑا جائیگا یعنی اُن میں سے نہریں نکالی جائیں گی اور (۷) وَإِذَا التَّفُوسُ ذُو جَتْ اور جب لوگ آپس میں جمع کر دیئے جائیں گے یعنی آپس کے تعلقات کے ایسے سامان نکل آئیں گے کہ دُور دُور کے لوگ آپس میں ملا دیئے جائیں گے۔جیسے آلات ٹیلیفون ہیں کہ ہزاروں میل کے لوگوں کو آپس میں ملا کر باتیں کروا دیتے ہیں ریل اور تار اور ڈاک کے انتظام ہیں کہ ساری دنیا کو انہوں نے ایک شہر بنادیا ہے (۸) وَإِذَا الْمَوءَ دَةً سُئِلَتْ (۹) بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَت اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکیاں یا عور تیں پوچھی جائیں گی۔یعنی مذہبی طور پر انسان کا زندہ گاڑ دینا خواہ جائز ہومگر قوانین حکومت اس کی اجازت نہ دیں گے اور صرف مذہبی جواز کا فتویٰ پیش کر دینا قبول نہ کیا جائے گا۔جیسے کہ اس زمانہ سے پہلے زمانوں میں ہوتا چلا آیا ہے (۱۰) وَإِذَا الصُّحُفُ نَشِرَتْ اور جبکہ کتب اور اخبارات اور رسالہ جات پھیلائے جائیں گے جیسا کہ آجکل ہے کہ اخبارات اور کتب کی کثرت کو دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے(۱۱) وَإِذَا السَّمَاءَ كُشِطَتْ اور جب آسمان کا چھلکا اُتارا جائیگا یعنی آسمانی علوم کا ظہور ہوگا، علم ہیئت کی ترقی کے ذریعے سے بھی اور علوم قرآنیہ کے اظہار اور اشاعت کے ذریعے سے بھی (۱۲) وَإِذَا الْجَحِيمُ سَعِرَتْ اور دوزخ بھڑکا دی جائے گی یعنی نئے