دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 397

دعوت الامیر — Page 261

۲۶۱ دعوة الامير نئے علوم ایجاد ہوں گے جن کی وجہ سے لوگوں کو دین سے نفرت ہو جائے گی اور دلوں سے ایمان نکل جائے گا اور عیش و عشرت کے سامانوں کی کثرت سے بھی لوگوں میں فساد پیدا ہو جائے گا (۱۳) وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزلِفَتْ اور جب جنّت قریب کر دی جائیگی یعنی اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کا فضل بھی جوش میں آئیگا اور جنت بھی قریب کر دی جائے گی یعنی جب فساد اور شرارت بڑھ جائیگی اور بے دینی ترقی کر جائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایسا سامان کر دے گا کہ لوگوں کے ایمان تازہ ہوں اور دین کی خوبی ظاہر ہو جائے اور ان کاموں کا کرنا لوگوں کے لئے آسان ہو جائے جن کے کرنے پر جنت ملتی ہے۔اب آپ غور کر کے دیکھ لیں کہ کیا یہ سب نشانیاں اس زمانے کی نہیں ہیں اور کیا یہ ممکن ہے کہ ان علامات کو قیامت یا کسی اور زمانے پر لگایا جائے۔صرف إِذَا الشَّمْسُ كُورَتْ اور إِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ کے الفاظ سے دھوکا کھا کر یہ خیال کر لینا کہ یہ باتیں قیامت کو ہوں گی کب جائز ہو سکتا ہے جبکہ اس کی باقی آیات کا قیامت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا ، قیامت کو دس مہینے کی گا بھن اونٹنیاں بھلا کیوں چھوڑ دی جائیں گی ؟ اگر کہا جائے کہ گھبرا کر تو اس کا جواب یہ ہے کہ اونٹنی کا کیا ذکر اس وقت تو باپ، ماں، بیٹا ، بیٹی ، بیوی ، بھائی بہن سب کو چھوڑ دیا جائے گا ایسے اعلیٰ تعلقات جس وقت ٹوٹ جائیں گے اس وقت کے ذکر میں اونٹنی کے چھوڑ دینے کا ذکر بے محل ہو جاتا ہے۔اسی طرح سوال پیدا ہوتا ہے کہ وحشی کیوں اکٹھے کئے جائیں گے؟ دریاؤں میں سے اس دن نہریں کیوں نکالی جائیں گی؟ یا یہ کہ دریا آپس میں کیوں ملائے جائیں گے اور مودودہ کے متعلق اس وقت کیوں سوال ہوگا ؟ اعمال کے متعلق پرسش تو فنا کے بعد حشر اجساد کے دن ہوگی ، نہ کہ جس وقت کا رخانہ عالم درہم برہم ہو رہا ہوگا۔اسی طرح ان آیات کے مابعد بھی ایسی باتوں کا